03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن قرآن اکیڈمی کا “کلما” کی طلاق کا حلف اٹھانے کا حکم
88077طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں ایک ادارہ میں کام کرتا ہوں جس کے حلف نامہ میں ایک شق یہ ہے " میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ دورانِ ملازمت یا ملازمت چھوڑنے کے بعد کبھی بھی خود یا کسی اور شخص کے ذریعے ادارہ کے اسٹوڈنٹ سے مخفی رابطہ رکھنے، فون نمبر یا ای میل ایڈریس وغیرہ لینےیا کوئی ریفرینس لینےکے لیے رابطہ کروں تو  مجھ پر کلما کی طلاق۔(چاہے خود نکاح کروں یا فضولی کی صورت میں ہو ، یا کسی کو وکیل بنا کر نکاح کروں، الغرض میری بیوی موجودہ ہو یا آئندہ ہونے والی، کوبہر صورت طلاق)"

  1. ایسے حلف اٹھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
  2. کیا ایسا حلف اٹھوانا جائز ہے؟
  3. کیا ایسا حلف اٹھانا جائز ہے؟
  4. اگر کوئی شخص ایسا حلف اٹھا کر ایسا کر لے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
  5. خلاف ورزی کی صورت میں اس کا جرمانہ اور بعد میں نکاح حلال کیسے کیا جائے؟

وضاحت: سائل کے بقول سوال میں مذکور بریکٹ میں بند عبارت بھی ایگریمنٹ میں باقاعدہ لکھی جاتی ہے، اکیڈمی اور اساتذہ کے درمیان کیا جانے والا ایگریمنٹ ساتھ منسلک ہے۔  اس شق کے لکھوانے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی استاذ طالبِ علم کو اکیڈمی سے توڑ کر اپنے ساتھ نہ جوڑ لے، اس سے اکیڈمی کو نقصان ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2،3۔ شرعی اعتبار سے اکیڈمی میں پڑھانے والے اساتذہ اور اکیڈمی کی انتظامیہ کے درمیان معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے، جس کے تحت اساتذہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دے کر ماہانہ تنخواہ کے حق دار ہوتے ہیں، اور اجارہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسی شرط لگانا جائز نہیں کہ جس میں فریقین میں سے کسی ایک کا نفع ہوا، ایسی شرط لگانے سے اجارہ کا معاملہ فاسد اور ناجائز ہوجاتا ہے، جس کو ختم کرنا فریقین کے ذمہ لازم ہوتا ہے، البتہ پھر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ نئے سرے سے معاملہ کرسکتے ہیں۔

سوال کے ساتھ منسلک معاہدہ کا مطالعہ کیا گیا، جس میں واضح طور پریہ شق لکھی گئی ہے کہ اگر استاذ نے کسی بھی طریقہ سے ادارہ کے اسٹوڈنٹ سے فون نمبر یا ای میل ایڈریس وغیرہ لینےیا  کوئی ریفرینس لینے کے لیے کسی طالب علم سے مخفی رابطہ کیا تو استاذ کی موجودہ اور آئندہ ہونے والی بیوی کو طلاق ۔ یہ شق اجارہ کے اصول کے خلاف ہے، کیونکہ اساتذہ صرف ڈیوٹی کے دوران اکیڈمی کے اصول وضوابط کے پابند ہیں، اس وقت کے بعد ان کو کسی بھی طالب علم سے کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے کا پابند کرنا خلافِ شرع ہے، جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان اجارہ کا معاملہ ناجائز اوراس  کو ختم کرنا فریقین کے ذمہ لازم ہو گا،  ورنہ دونوں فریق بدستور گناہ گار ہوں گے۔نیز اجارہ کے ناجائز اور فاسد ہونے کی وجہ سے استاذ کو طے شدہ اجرت کی بجائے معاشرے میں رائج اجرتِ مثل دی جائے گی، جو کہ فریقین کے درمیان طے شدہ اجرت سے زائد نہیں دی جائے گی۔

البتہ استاذ کے ذمہ شرعی طور پر لازم ہے کہ وہ کسی طالبِ علم کو ورغلا پھسلا کر اکیڈمی سے  نکال کر مکمل فیس خود لینے کے لیے اپنے پاس پڑھانا نہ شروع کرے، اس میں اکیڈمی کی انتطامیہ کی حق تلفی ہے، کیونکہ یہ طالب علمِ اکیڈمی کا کسٹمر (گاہک) ہے، اسی لیے حدیثِ پاک میں دو خریدوفروخت کرنے والوں کے درمیان تیسرے شخص کو مداخلت کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اگر کوئی طالبِ علم از خود اکیڈمی سے نکل کر کسی استاذ کے پاس پڑھنے کا خواہش مند ہو تو شرعاً اس کو پڑھانا جائز ہے، اسی طرح کسی طالب علم کا ایک وقت میں اکیڈمی میں پڑھنا اور دوسرے وقت میں کسی استاذ سےسبق کی دہرائی کے لیے پڑھنا بھی جائز ہے، اس پر اکیڈمی کی انتطامیہ کا اعتراض کرنا شرعاً درست نہیں۔

نیزمنسلکہ معاہدہ کی شق نمبر 2 بھی خلاف شرع ہے، کیونکہ ایک منٹ سے پانچ منٹ تاخیر کرنے پر 500سے1000 روپیہ جرمانہ لینا تعزِیر مالی ہے، جس کی حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق اجازت نہیں، لہذا اس شق کو بھی ختم کرنا ضرروری ہے، کیونکہ اس میں ایک فریق کی حق تلفی ہے، البتہ اصولی طور پر تاخیر کے حساب سے اس کی تنخواہ سے کٹوتی کرنا جائز ہے۔   

4،5۔ اگر کوئی شخص  منسلکہ معاہدہ کے مطابق حلف اٹھا لے اور پھر اس کی خلاف ورزی کر ے، یعنی کسی طالبِ علم سے کسی طرح رابطہ کرلے تواس کی موجودہ بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی، نیز اگر وہ خود یا وکیل یا فضولی کے ذریعہ نکاح کرے تو بھی نکاح ہوتے ہی اس کی بیوی پر  ایک طلاق واقع ہو جائےگی اور یہ طلاق صرف ایک ہی مرتبہ واقع ہو گی، کیونکہ معاہدہ نامہ میں تین طلاق اورتکرارِ طلاق  کے الفاظ نہیں ذکر کیے گئے، اس لیے دوبارہ نکاح کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ مذکورہ معاہدہ میں کلما کی طلاق کے الفاظ کے بعد بریکٹ میں لکھے گئے الفاظ سے طلاق معلق ہوئی ہے اور اس میں بغیر تکرار کے صرف ایک طلاق کا ذکر ہے۔

نیز اس شق میں درج کی گئی معلق طلاق سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے،کیونکہ کسی بھی طریقہ پر عمل کرنے سے موصوف کی بیوی پر ایک طلاق بہرصورت واقع ہو گی اور اس حلف کی مخالفت سے بھی ایک ہی طلاق واقع ہو گی، البتہ آئندہ کے لیے اس شخص کو صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجه (2/ 734) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يبيع الرجل على بيع أخيه، ولا يسوم على سوم أخيه»

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري (2/ 394) الناشر: مؤسسة الرسالة:

2703 - قال مالك: وتفسير ذلك من قول النبي صلى الله عليه وسلم، فيما نرى , والله أعلم، لا يبيع بعضكم على بيع بعض , أنه إنما نهى أن يسوم الرجل على سوم أخيه، إذا ركن البائع إلى السائم , وجعل يشترط وزن الذهب، ويتبرأ من العيوب، وما أشبه هذا مما يعرف به , أن البائع قد أراد مبايعة السائم , فهذا الذي نهى عنه.

المبسوط للسرخسي (22/ 150) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

 والإجارة تبطل بالشروط الفاسدة، فأما المضاربة فشركة حتى لا يشترط فيها التوقيت، والشركة لا تبطل بالشروط الفاسدة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6 / 46) الناشر: دار الفكر-بيروت:

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل".

الفتاوى الهندية (4/ 419) الناشر: دار الفكر:

 وفي الإجارة الفاسدة يجب أجر المثل لا يجاوز به المسمى. كذا في محيط السرخسي.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 237) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: "الإجارة تفسدها الشروط كما تفسد البيع"؛ لأنه بمنزلته، ألا ترى أنه عقد يقال ويفسخ "والواجب في الإجارة الفاسدة أجر المثل لا يجاوز به المسمى"

رد المحتار على الدر المختار (3/ 247) الناشر: دار الفكر-بيروت:

’’ قال في نور العين: الظاهر أنه لا يصح اليمين؛ لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان: أن من قال: جعلت كلما، أو علي كلما، أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل، ومن هذيانات العوام اهـ  فتأمل.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 124) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(قوله ولو دخلت على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق يحنث بكل مرة) أبدا لأن الشرط ملك يوجد في المستقبل وهو غير محصور، وكلما وجد هذا الشرط تبعه ملك الثلاث فيتبعه جزاؤه وعن أبي يوسف في المنتقى: إذا قال كلما تزوجت امرأة فهي طالق فتزوج امرأة طلقت، فإن تزوجها ثانيا لا تطلق إلا مرة واحدة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

11/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب