| 88024 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
شرعی اعتبار سے عاقل بالغ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے اور نکاح کے سلسلہ میں کسی شخص کو اپنا وکیل بھی بنا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ پنے کفو یعنی ہمسر(جوحسب نسب، دینداری اور پیشہ وغیرہ میں عورت کے ہم پلہ ہو)شخص سے نکاح کرے، اس كے علاوه شرعاً نکاح کے وقت اس کے والد یا کسی اور ولی کا موجود ہونا ضروری نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ عورت اپنے والد وغیرہ سے مشورہ کر کے دوسری جگہ نکاح کرے، ان کے مشورہ کے بغیر عورت کا از خود کسی جگہ نکاح کرنا اسلامی تعلیمات اور شرم وحیاء کے خلاف ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے عاقل بالغ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے اور نکاح کے سلسلہ میں کسی شخص کو اپنا وکیل بھی بنا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ پنے کفو یعنی ہمسر(جوحسب نسب، دینداری اور پیشہ وغیرہ میں عورت کے ہم پلہ ہو)شخص سے نکاح کرے، اس كے علاوه شرعاً نکاح کے وقت اس کے والد یا کسی اور ولی کا موجود ہونا ضروری نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ عورت اپنے والد وغیرہ سے مشورہ کر کے دوسری جگہ نکاح کرے، ان کے مشورہ کے بغیر عورت کا از خود کسی جگہ نکاح کرنا اسلامی تعلیمات اور شرم وحیاء کے خلاف ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 191) دار احياء التراث العربي – بيروت:
وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف " رحمه الله " أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا " وقال مالك والشافعي رحمهما الله لا ينعقد النكاح بعبارة النساء أصلا لأن النكاح يراد لمقاصد والتفويض إليهن مخل بها إلا أن محمدا رحمه الله يقول يرتفع الخلل باجازة الولي ووجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة مميزة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج وإنما يطالب الولي بالتزويج كيلا تنسب إلى الوقاحة ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما "
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
14/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


