| 88130 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ محمد ........... نے سعودی عرب سےاپنی بیوی کو کال کرکے دوصریح طلاقیں دے دیں ،جن کا وہ اقرار بھی کر رہا ہے،جبکہ اس کی بیوی کابیان ہے کہ مجھے صرف ایک طلاق کی سمجھ آئی ہے،اس واقعے کے بعد محمد جاوید نے اپنے برادر نسبتی یعنی بیوی کے بھائی کو فون کرکےکہاکہ میں نے تین طلاقیں پوری کردی ہیں اور تیری بہن کو طلاق ہوگئی ہے، آکر بہن کولے جاؤ ۔
اب وہ یہ بھی کہ رہاہےکہ میں ڈپریشن کا مریض ہوں اور ساتھ یہ بھی کہ رہا ہے کہ میں نے برادر نسبتی کوتیسری طلاق کا جوکہاہے، وہ اسے یعنی برادر نسبتی کوپریشان اور تنگ کرنے کیلئے بولاہے، جبکہ بیوی کو صرف دو طلاقیں دی ہیں،اب دریافت طلب یہ ہے کہ جاوید کی اپنے برادر نسبتی کے ساتھ کی جانے والی گفتگوکی وجہ سے طلاق ثلاثہ کا حکم لگے گا یا نہیں ؟
نوٹ : محمد........ کی اپنے برادر نسبتی سے ہونےوالی گفتگو محفوظ ہے، ضرورت پڑنے پر واٹسپ پر بھیجی جاسکتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے اقرار سے بھی قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،اگر چہ شوہر جھوٹا اقرار ہی کیوں نہ کرے اور طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ظاہر کے مطابق عمل کرنے کی مکلف ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں جب شوہر اپنے برادر نسبتی کے سامنے تین طلاقوں کا اقرار کرچکا ہے تو بیوی اس پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،جس کے بعد موجودہ حالت میں ان دونوں کا دوبارہ نکاح ممکن نہیں۔
تاہم اگر شوہر نے اقرار سے قبل بیوی کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا ہو کہ وہ اس کے بھائی کے سامنے تیسری طلاق کا جھوٹا اقرار کرے گا،یا اس نے اس بات پر دو گواہ بنالئے ہوں،یا مختلف خارجی قرائن کی وجہ سے بیوی کو پختہ گمان یا یقین ہوجائے کہ شوہر نے تیسری طلاق کا جھوٹا اقرار کیا ہے تو پھر اس صورت میں دو طلاقوں کا حکم لگے گا اور اس اقرار کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لیکن یہ ملحوظ رہے کہ ایسے خارجی قرائن کے بغیر جن سے شوہر کے اس دعوی کی تصدیق ہوسکے کہ اس نے تیسری طلاق کا جھوٹا اقرار کیا ہے،محض شوہر سے حسن ظن کی بناء پر بیوی کے لئے اس کے دعوی کی تصدیق کی گنجائش نہیں ہے۔("احسن الفتاوی"161/5:)
حوالہ جات
"رد المحتار"(3/ 236):
"ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ".
"البحر الرائق " (3/ 264):
"وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.
وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة، والإقرار بالعتق كالإقرار بالطلاق وقيده البزازي بالمظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا قال يصدق في الحرية، والطلاق جميعا وهذا صحيح اهـ".
"الفتاوى الهندية" (1/ 354):
" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي" (8/ 6286):
"العلم الشخصي للقاضي نفسه: إذا اطلع القاضي على الحادثة، فهل له القضاء بعلم نفسه؟ اختلف الفقهاء فيه.
قال متقدمو الحنفية: يقضي القاضي بعلم نفسه، بالمعاينة أو بسماع الإقرار أو بمشاهدة الأحوال على النحو الآتي:
له أن يقضي بعلم حدث له زمن القضاء وفي مكانه في الحقوق المدنية كالإقرار بمال لرجل، أو الحقوق الشخصية كطلاق رجل امرأته، أو في بعض الجرائم: وهي قذف رجل أو قتل إنسان. ولا يجوز قضاؤه بعلم نفسه في جرائم الحدود الخالصة للہ عز وجل، إلا أن في السرقة يقضي بالمال، لا بحد القطع؛ لأن الحدود يحتاط في درئها، وليس من الاحتياط فيها الاكتفاء بعلم القاضي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
21/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


