| 88183 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں دبئی کے ایک سودی بینک میں آئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا ہوں۔بینک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق میرا تعلق بینک کے مرکزی نظام (core banking system ) سے نہیں ہے ،جہاں سے سودی معاملات کو براہ راست دیکھا جاتا ہے۔ راہنمائی فرمائیے کہ میرا کام اور تنخواہ حلال ہے یانہیں؟ اور اس کمائی سے اب تک جو پراپرٹی بنائی ، یا کاروبار کیا یا کھایا پیا اس کا کیا حکم ہے؟
تنقیح : سائل سے اور دیگر متعلقہ ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق سائل کے کام کی نوعیت اور تفاصیل درج ذیل ہیں:
سائل کا تعلق براہ راست سودی بینک کے مرکزی نظام (core banking system ) سے نہیں ہے۔چنانچہ سائل مرکزی نظام کے تحت سودی قرضوں کی ادائیگی یا وصولی کے نظام سے وابستہ نہیں ہے۔اسےمرکزی نظام کے تحت کسی کسٹمر کے اکاونٹ میں براہ راست رقم ڈالنے یا نکالنے کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کی تفصیلات تک رسائی حاصل ہے۔ بلکہ اس کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
- بینک اور اس کی تمام شاخوں /برانچوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کے نظام اور فائر الارم سسٹم کو موثر رکھنا اور پولیس سے رابطہ رکھنا
- آلات مثلا کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،پرنٹر ،ڈیوائسز ،ان میں استعمال ہونے والے عموی سافٹ ویئرز مثلا ورڈ،ایکسل وغیرہ مہیا کرنا اور مہیا رکھنا ۔اندرونی وبیرونی ربط کے لیے درکار نیٹ ورک یعنی انٹرنیٹ اور مواصلات کا نظام وغیرہ مہیا کرنا اور رکھنا۔ان تمام ڈایوائسز و نیٹ ورک اور بینک کے مکمل ڈیٹا کو کو بیرونی خدشات و حملوں(سائبر اٹیک وغیرہ)اور وائرسز وغیرہ سے محفوظ بنانا
- تنخواہوں کے تحفظ کے نظام ، رقوم کی منتقلی کے نظام، بذریعہ تصویر تصفیۂ چیک کے نظام پر کام کرنا ۔
تنخواہوں کے نظام میں کوئی بھی ادارہ مثلا اسکول،یونیورسٹی ،کمپنی وغیرہ اپنے ملازمین کو بینک کے ذریعے سے تنخواہیں منتقل کرتا ہے ۔
بذریعہ تصویر تصفیۂ چیک کا نظام بینکوں میں وصول ہونے والے کاغذی چیکوں کو تصویری شکل دے کر مرکزی بینک کو بھیجنے کا کام کرتا ہے۔
رقوم کی منتقلی کے نظام کے تحت لوگوں یا اداروں کے مابین ایک بینک کے اکاونٹ سے دوسرے بینک کے اکاونٹ میں رقم منتقلی کا عمل انجام پاتا ہے جیسے کسی بھی بینک کی موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے سے رقم منتقل کی جاتی ہے۔
سائل ان نظاموں پر جو کام کرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
- بینک کے نظام کی مذکورہ نظاموں کے ساتھ ہموار انٹیگریشن و انضمام کو یقینی بنانا تاکہ ان نظاموں کے کام بغیر خلل کے حقیقی وقت میں ہو سکیں۔
مثلا کسی ادارے کی جانب سےتنخواہوں کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے سائل کے بینک میں مرکزی نظام کےتحت موجود اپنے ملازم کے اکاونٹ میں تنخواہ منتقل ہو تو سائل یہ دیکھے کہ یہ فائل بحفاظت تنخواہوں کے نظام سے مرکزی نظام کےتحت بغیر کسی خلل کے منتقل ہوجائے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص مثلا بینک الحبیب میں آکر اپنے اکاونٹ میں پیسے جمع کروانے کے لیے کسی دوسرے شخص کی جانب سے دیئے ہوئے بینک الفلاح کے چیک کو جمع کروائے ۔بینک الحبیب میں بیٹھا ہوا کیشئر جب اپنی کاروائی پوری کرنے کے بعد اس چیک کو تصویری شکل میں تبدیل کر تصفیۂ چیک کے نظام میں داخل کردے تو اس بات کو یقینی بنانا کہ یہ فائل بحفاظت ملک کے مرکزی بینک تک بغیر کسی خلل کے منتقل ہوجائے تاکہ مرکزی بینک پھر بینک الفلاح کے مرکزی بینک کے پاس موجود اکاونٹ سے چیک میں درج رقم نکال کر مرکزی بینک کے پاس موجود الحبیب کے اکاونٹ میں منتقل کردے۔
رقم منتقلی کا یہی کام جب کوئی بینک یا شخص بینک میں لاکر چیک جمع کروانے کی بجائے رقوم منتقلی کے لیے فراہم کردہ پورٹل کے ذریعے سے کرے تو یہ رقوم کی منتقلی کے نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔
- پروٹوکولز اور معیارات کی تعمیل کے لئے انٹیگریشن کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنا اور دیکھ بھال کرنا۔
- ان نظاموں میں معاملات کی محفوظ فائل منتقلی کے عمل کا انتظام کرنا۔
- منتقلی کے دوران ڈیٹا کی سیکیورٹی اور سالمیت کو یقینی بنانا۔
- یہ یقینی بنانا کہ مجاز صارف پورٹل تک مؤثر اور محفوظ رسائی حاصل کر سکیں۔
- سافٹ ویئر فراہم کرنے والے ادارے کے ساتھ ربط و ضبط رکھنا
- ان نظاموں سے متعلقہ تکنیکی سوالات یا مسائل کا حل اور جواب دینا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ معصیت پر اجارہ یعنی گناہ کے ارتکاب کی خدمات فراہم کرنا جائز نہیں۔اسی طرح وہ خدمات جو بذات خود تو جائزہوں لیکن یقینی طور پر یا غالب گمان کی حد تک یہ بات معلوم ہوکہ یہ خدمات کسی ناجائز کام میں معاون بن رہی ہیں یا قریبی درجے میں اس ناجائز کام کو کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں تو پھر ان خدمات کو فراہم کرنے کا معاملہ بھی ناجائز ہی شمار ہوگا۔
اس اصول کی بنیاد پر سودی بینک میں ملازمت کی نوعیت کو درج ذیل اقسام میں بیان کیا جاسکتاہے:
- وہ کام کرنا جن کا تعلق براہ راست سودی و غیر شرعی معاملات سےہو مثلا سودی معاہدے کرنا، یا لکھنا یا ان پر دستخط کرنا، بل ڈسکاوٹنگ کرنا، سود لینا یا دینا، سودی فوائد وصول کرنایا ادا کرنا، یا ان کو کسی حساب میں محفوظ رکھنے کی نیت سے درج کرنا ، یا ان کاموں کی ذمہ دار بینک یا اس کی کسی شاخ کی انتظامیہ میں کام کرنا وغیرہ ۔یہ ملازمت ناجائز ہے۔
- وہ کام کرنا جن کا سودی و غیر شرعی معاملات سے براہ راست تعلق ہی نہ ہو مثلا چوکیدار، ڈرائیور، فون آپریٹر، عمارت یا آلات کی دیکھ بھال کرنے والے منتظم ، بجلی کے عملہ کے کام وغیرہ۔یہ ملازمت جائز ہے ،اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اس بھی اجتناب کیا جائے۔
- وہ کام کرنا جن کا تعلق صرف جائز خدمات کی فراہمی سے ہو مثلا ، رقم کی منتقلی، کرنسی کے فوری تبادلے، بینک چیک جاری کرنے، شپمنٹ(سامان کی ترسیل) کی دستاویزات محفوظ رکھنے یا انہیں ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجنے کا کام وغیرہ ۔ یہ ملازمت بھی فی نفسہ جائز ہے ، بشرطیکہ یہ خدمات ناجائز معاملات کے لیے نہ ہوں
- وہ کام کرنا جن کا تعلق جائز و ناجائز دونوں طرح کی خدمات سے ہو ۔ یہ ملازمت بھی ناجائز ہے۔
- وہ کام کرنا جن کا تعلق بینک کے معاملات سے ہی نہ ہو جیسا کہ عمومی معاشی حالات جاننے کے لیے ریسرچ کرنا یا تحقیقاتی رپورٹس تیار کرنا ۔ یہ ملازمت جائز ہے،بشرطیکہ بینک کے سودی کاموں میں معاونت مقصود نہ ہو
اسی طرح سودی بینک کو آلات و اشیاء فراہم کرنے کو بھی تین اقسام میں بیان کیا جاسکتا ہے:
- وہ اشیاء جن کا استعمال صرف ناجائز معاملات میں ہی ہو جیسا کہ سودی وغیر شرعی معاملات کے لیے مخصوص سافٹ ویئرز۔ان اشیاء کی فراہمی ناجائز ہے۔
- وہ اشیاء جن کا جائز و ناجائز دونوں طرح کا استعمال ممکن ہو، لیکن ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت کردی جائے یا اس کا قصدو ارادہ کیا جائے یا پھر ناجائز امور کی انجام دہی ان آلات سے براہ راست ہوتی ہو اور ساتھ ان کا ناجائز کاموں میں استعمال ہونا معلوم بھی ہو جیسا کہ کمپوٹر وغیرہ ۔ان اشیاء کی فراہمی بھی ناجائز ہے۔
- وہ اشیاء جن کا سودی معاملات سے براہ راست تعلق نہ ہو جیسا کہ گاڑیاں اور فرنیچر وغیرہ۔ان اشیاء کی فراہمی جائز ہے۔
مذکورہ بالا اصولی مباحث کی روشنی میں سائل کی ملازمت میں شامل مختلف ذمہ داریوں کا شرعی حکم یہ ہے کہ:
- سائل بینک میں میں سی سی ٹی وی کیمروں کے نظام اور فائر الارم سسٹم کو لگانے ،اسے موثر رکھنے اور پولیس سے رابطہ رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ان ذمہ داریوں اور آلات کا براہ راست سودی معاملات سے تعلق نہیں ،لہذا یہ سیکورٹی گارڈاور ڈرائیور کی ملازمت کرنے اور بینک کو گاڑیاں و فرنیچر فراہم کرنے کے قبیل سے ہے ،لہذا جائز ہے،لیکن اس سے بھی اجتناب کرنا بہتر ہے۔
- سائل بینک کے مختلف شعبوں اور اس کی شاخوں(برانچوں) میں کمپیوٹر ولیپ ٹاپ،ان میں استعمال ہونے والے عمومی سافٹ ویئر ز اور نیٹ ورک اورسائبر سیکورٹی کا مکمل انتظام فراہم کرنے اور اس کی دیکھ بھال وغیرہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔یہ تمام چیزیں اگرچہ عمومی مقاصد کے لیے وضع کردہ ہیں اور ان کا جائز و ناجائز دونوں طرح کا استعمال ممکن ہے،لیکن سودی بینکوں کی مروجہ صورتحال کے پیش نظر ان چیزوں کا سودی معاملات میں استعمال ہونا معلوم ہے،کیونکہ سودی بینک میں ناجائز معاملات کا ارتکاب اور غیرشرعی لین دین ہوتا ہی ہے اور سودی معاملات کی کتابت و حفاظت وغیرہ میں ان آلات کا براہ راست تعلق ہے،نیز آج کل کوئی بھی بینک ان کے بغیر اپنے معاملات سر انجام نہیں دیتا ، لہذا سائل کی ملازمت کا یہ حصہ گناہ کا قریبی ذریعہ ہونے کی وجہ سےمکروہ تحریمی یعنی ناجائز ہے۔
- سائل تنخواہوں کے تحفظ کے نظام ، رقوم کی منتقلی کے نظام اور بذریعہ تصویر تصفیۂ چیک کے نظام پر کام کرتا ہے ۔یہ تینوں کام رقوم کی ادائیگی اور وصولی سے وابستہ ہیں جیسا کہ بینک کے علاوہ رقوم کی منتقلی کا کام کرنے والے دیگر ادارے کام کرتےہیں،چنانچہ یہ خدمات فی نفسہ جائز ومباح ہیں اور ملازمت کی تیسری جائز قسم میں داخل ہیں ، بشرطیکہ ان میں کسی ناجائز تنخواہ یا ناجائز رقم کی منتقلی نہ کی جاتی ہو۔اگر ناجائز کام کی تنخواہ کو یا کسی ناجائز رقم کو یا اس کے چیک کو تصویر ی شکل میں بدل کر منتقل کیا جاتا ہو اور خدمات فراہم کرنے والے کو یہ بات معلوم ہوتو یہ ملازمت کی پہلی قسم کی طرح ناجائز ہوگا،کیونکہ ظاہری طوپرتو سائل بینک کے مرکزی نظام میں تفصیلات وغیرہ درج نہیں کررہا ،لیکن مذکورہ بالا نظاموں کا بینک کے مرکزی نظام سے انضمام کرکے لین دین کو ایک طرف سے دوسری طرف پہنچانے اور اسے عملی طور پر پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا کام کررہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ سائل کی ملازمت مجموعی طور پر جائز و ناجائز امور دونوں طرح کے کاموں پر مشتمل ہے اور ملازمت کی چوتھی قسم میں داخل ہے۔ لہذا ابتدا ء ایسی ملازمت کو قبول کرنا جائز نہیں،اس سے بچنا لازم ہے،البتہ اب تک اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ کا حکم یہ ہے کہ صرف جائز کاموں کے بقدر تنخواہ حلال ہے اور ناجائز کاموں کے بقدر تنخواہ حرام ہے ،جسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنالازم ہے۔اسی طرح اب تک اس مال سے جو کچھ پراپرٹی خریدی یا کاروبار کیا اس میں سے حرام مال کے بقدر حرام شمار ہوگا اور حساب لگاکر اتنی ہی رقم صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ البتہ اگر سائل کے پاس اتنا حلال مال نہ ہو جس سے اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرسکے تو پھر اس دستیاب مال سے بطور قرض رقم لے کر اپنی ضروریات پوری کرتا رہے اور حلال مال حاصل ہونے پر تھوڑا تھوڑا صدقہ کرتا رہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع: 1064/2) ،1065(
فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل: التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضي الفوائد الربوية، أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإنّ الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام.و من کان مؤظفا فی البنک بھذا لشکل ، فإن راتبہ الذی یأخذہ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ…
وأما الوظائف التى تشتمل الخدمات المباحة والمحظورة، فيجرى فيه ما قدمنا في وظائف الفنادق والمطاعم.
أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربوية، مثل وظيفة الحارس أوسائل السيارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظف المسئول عن صيانة البناء، أو المعدات، أو الكهرباء، أو الموظف الذى يتمحض عمله في الخدمات المصرفية المباحة، مثل تحويل المبالغ، والصرف العاجل للعملات، وإصدار الشيك المصرفي،أوحفظ مستندات الشحن، أو تحويلها من بلد إلى بلد، فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنية الإعانة على العمليات المحرمة، وإن كان الاجتناب عنها أولى، ولا يحكم في راتبه بالحرمة، لما ذكرنا من التفصيل فى الإعانة والتسبّب، وفي كون مال البنك مختلطاًبالحلال و الحرام…
وقد تكون بعض الوظائف لاصلة لها بتعاملات البنك، وإنّما المقصود بها إجراء الدراسات الاقتصادية. فإن كان المقصود بهذه الدراسات أن تُعين البنك في عملياتها المحرمة، فإن هذه الوظيفة داخلة فى القسم الأول، فلا يجوز قبولها. أما إذا كانت دراسات عامة، يستفيد بها البنك وغيره لمعرفة الأحوال الاقتصادية العامة، فهى داخلة في القسم الثاني
فقہ البیوع: 1056/2) (
وأما الوظائف المركبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة، فلا يجوز قبولها لاشتمالها على عمل محرم، ولكن إن قبل أحد مثل هذه الوظيفة، فما حكم الراتب الذي أخذه عليها ؟ لم أجد فيها نقلاً فى كلام الفقهاء، إلا ما ذكره ابن قدامة رحمه الله تعالى… والحاصل ان الإجارة في الخدمة المباحة إنما تصح إذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها. ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتها معلومة. فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام معه والحرام فدخلت في الصورة الثالثة من القسم الثالث، وحلّ التعامل بقدر الحلال. أما إذا لم تُعرف أجرة الخدمة المباحة على حدتها، فالإجارة فاسدة، ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة، كما صرح به ابن قدامة رحمه الله تعالى بذلك في إجارات فاسدة أخرى. وعلى هذا، فإن ما يُقابل أجر المثل للخدمة المباحة فى راتبه ينبغى أن يكون حلالاً. فصار راتبه مخلوطاً من الحلال والحرام في هذه الصورة أيضاً. فينبغى أن يجوز معه التعامل بقدر الحلال.
فقہ البیوع: 1068/2) (
وعلى هذا، فتطبق عليه أحكام الصورة الثالثة من القسم الثالث من أنه يجوز التعامل المباح معها بأن يُباع إليها شيئ حلالٌ لا يُعينها على العمليات المحرمة بصفة مباشرة، مثل السيارات والمفروشات والأدوات الكهربائية، وإن كان الاجتناب عنه أولى بالاحتياط. أما الأدوات التي يتمحض استخدامها في عمليات التأمين، مثل برامج الحاسوب التي صُممت لعمليات التأمين خاصةً، فإنّ بيعها ممنوع شرعاً. وكذلك المعدات التي يُمكن استخدامها في الحلال والحرام معاً، مثل الحاسوب الآلي، ولكنها بيعت إليها بقصد إعانتها فى عمليات التأمين، فإنه غير جائز أيضاً
فقہ البیوع: 1064/2) (
السادس: بيع الأشياء إليه. وفيه تفصيل. فإن كان المبيع مما يتمحض استخدامه في عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذي صمم للعمليات الربوية خاصة، فإن بيعه حرام للبنك وغيره، وكذلك بيع الحاسوب بقصد أن يُستخدم في ضبط العمليات المحرمة أو بتصريح ذلك في العقد. أما بيع الأشياء التي ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات المحرمة، مثل السيارات أو المفروشات، فليس حراماً، وذلك لأنها لا يتمحض استخدامها في عمل محظور.
فقہ البیوع: /1) (194
وعلى هذا يُخرج حكم بيع البناء أو إجارته لبنك ربوي، فإن قصد البائع الإعانة، أو صرح في العقد بكونه يُستخدم للأعمال الربوية، حرم البيع وبطل.والظاهر أن المستأجر حينما يعقد البيع أو الإجارة لإقامة فرع للبنك مثلا، فإنه في حكم التصريح بأن البناء يستعمل للأعمال الربوية. أما إذا بيع البناء أو أجر لعرض آخر للبنك، مثل التخزين وغيره، فلا يدخل في ذلك الحكم، وليس سبباً قريباً للمعصية، فينبغي أن يجوز مع الكراهة تنزيهاً
وکذٰلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصدبذٰلک الإعانۃ، أو کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح إلافی الأعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فإن العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الإعانۃ ،ولیس فی البرنامجما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا
فقہ البیوع /1) (324:
"وتبين بذلك حكم بيع المذياع (الراديو) والمسجل والحاكى، فإن جميع هذه الأشياء وضعت لأغراض عامة تحتمل الاستعمال فى مباح وغيره. فبيعها صحيح منعقد، ولا كراهة فيه إن لم يعلم البائع أنّ المشتري يقصد منها معصية، وذلك باتفاق العلماء. وأما إذا علم البائع بيقين أن المشتري يقصد بها معصية لاغير، فإن بيعه يكره تحريما… ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا تخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة مـن مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فيما أن استعماله في مباح ممكن لا تحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً، إلا إذا تعين بيعه لمحظور، ولكن نظرا لي معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية"
فقہ البیوع( 1/192،193)
فتنقیحُ الضّابط فی ھذا الباب علی مامن به علیٗ ربی: أن الإعانة علی المعصیة حرام مطلقاً بنص القرآن أعنی قوله تعالی: "وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن أَكَون ظھیراً لِلمُجْرمین (القصص:17)ولکن الإعانة حقیقة ھی ماقامت المعصیة بعین فعل المعین، ولایتحقّق إلا بنیّة الإعانة أوالتصریح بھا أو تعینھا فی استعمال ھذا الشیئٔ بحیثٗ لایحتمل غیرالمعصیة. ومالم تُقم المعصیة بعینه لم یکن من الإعانة حقیقة، بل من التسبب، ومن أطلق عليه لفظ ''الإعانة'' فقد تجوز ؛لکونہ صورۃ الإعانة کما مر من السیر الکبیر.
ثم السبب إن کان سببا محرکا ود اعیاإلی المعصیۃ ،فالتسبب فیہ حرام ،کالإعانة علی المعصیة بنص القرآن کقولہ تعالی: "وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ"(الأنعام: 109)وقوله تعالی: "فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ"(الأحزاب: 32)وقولہ تعالی :"وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى"(الأحزاب: 33) وإن لم یکن محرکاً وداعیا ، بل موصِلاً محضأ ،وھو مع ذلك سبب قریب بحیثٗ لایحتاج فی إقامة المعصیة بہ إلی إحداث صنعة من الفاعل،کبیع السلاح من اُھل الفتنۃ، وبیع الأمرد ممّن یعصِی بہ، وإجارۃ البیت ممّن یبیع فیہ الخمر ،أو یتخذھا کنیسۃأو بیت نار و أمثالھا،فکلہ مکروھا تحریما بشرط أن یعلم بہ البائع والآجر ،من دون تصریح بہ باللسان ،فإنہ إن لم یعلم کان معذوراً، وإن علم وصرح کان داخلاً فی الإعانة المحرّمة. وإن کان سببا بعیدا بحیث لا يفضی إلی المعصیة علی حالتھا الموجودة ،بل یحتاج إلی احداث صنعة فیہ، کبیع الحدید من أھل الفتنة وأ مثالھا ،فتکرہ تنزیھا"
الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 208(214-
بيع العصير لمن يتخذه خمرا:
المراد بالعصير: عصير العنب، أي معصوره المستخرج منه.وقد ذهب الفقهاء مذاهب مختلفة في الحكم التكليفي في هذه الجزئية.
فذهب المالكية والحنابلة إلى حرمة هذا البيع، وهو الأصح والمعتمد عند الشافعية إن كان يعلم أو يظن أيلولته إلى الخمر، فإن شك كره. ونحوه قول للصاحبين - أشار الحصكفي لتضعيفه - بأنه مكروه، والكراهة إن أطلقت عند الحنفية للتحريم…وذهب أبو حنيفة إلى أن هذا البيع جائز…
اشتراط علم البائع بقصد المشتري اتخاذ العصير للخمر:
اشترط الجمهور للمنع من هذا البيع: أن يعلم البائع بقصد المشتري اتخاذ الخمر من العصير، فلو لم يعلم لم يكره بلا خلاف، كما ذكره القهستاني من الحنفية، وهو صريح كلام المرغيناني الآنف الذكر.
وكذلك قال ابن قدامة: إنما يحرم البيع إذا علم البائع قصد المشتري ذلك: إما بقوله، وإما بقرائن مختصة به تدل على ذلك.أما الشافعية فاكتفوا بظن البائع أن المشتري يعصر خمرا أو مسكرا، واختاره ابن تيمية .
أما إذا لم يعلم البائع بحال المشتري، أو كان المشتري ممن يعمل الخل والخمر معا، أو كان البائع يشك في حاله، أو يتوهم:فمذهب الجمهور الجواز، كما هو نص الحنفية والحنابلة. ومذهب الشافعية أن البيع في حال الشك أو التوهم مكروه.
فقہ البیوع /2) (1055:
ماوجب التصدق به لكاسب الحرام، واحتاج إليه لنفقته ونفقة عياله، يجوز صرفه إلى نفسه، فإن كان فقيراً، لا يجب عليه التصدق بمثله، وإن كان غنياً، ولم يكن المال الحلال كافياً لسد حاجته يسوغ للمفتى بعد النظر في أحواله أن يفتيه بجواز الاقتراض مما عنده من المال الحرام بشرط أن يُلزم نفسه تسديد هذا القرض إلى الفقراء من المال الحلال كلما تيسر له ذلك، فيجب عليه أن يتصدق بمثله.
شیر علی بن محمد یوسف
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21 محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


