| 88148 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا یہ سب(مصنوعی ذہانت سے کارٹون بنوانا) کچھ تصویر سازی یا "مصوری" کے جدید طریقے میں شمار ہوتا ہے، جس پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈیجیٹل تصویر/ویڈیو کےے بارے میں علمائےکرام کا اختلاف ہے،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1:ڈیجیٹل تصویر اصل میں آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے۔ناجائز تصویر کے حکم میں داخل نہیں ہے،لہٰذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی تصویر یا ویڈیو بھی جائز ہےاور جس کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی تصویر یا ویڈیو بھی جائز نہیں ہے۔
2:ڈیجیٹل تصویر عام پرنٹ تصویر کے حکم میں ہے،لہٰذاصرف ضرورت کے وقت جائز ہے۔
3:ڈیجیٹل تصویر کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زائد فقہی آراء موجود ہیں۔اس لئے صرف شرعی ضرورت اور معتبر دینی یا دنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیوبنانے کی گنجائش ہے جن میں تصور ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلاً عریانیت،موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔
یہی تیسرا موقف ہمارے دار الافتاء کا ہے۔(مستفاد از تبویب:79465)
اس تمہید کے بعد کارٹون وغیرہ کا حکم درج ذیل ہے:
الف۔ جن کارٹون میں شکل کا بگاڑنا، مسخ کرنا پایا جارہا ہو وہ توہین کے زمرے میں آتا ہے ، لہذا اس پر گناہ ملے گا۔
ب۔ جو کارٹون فرضی چہروں پر مشتمل ہو اور ان میں کسی توہین یا مسخ کا پہلو نہیں تو وہ تصاویر کے حکم میں نہیں ہے، لہذا حدیث میں وارد وعید کے ضمن میں وہ نہیں آئیں گے۔
حوالہ جات
.......
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
22/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


