03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشہور شخصیات کے چہروں کو کارٹون میں استعمال کرنا
88146جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

کیا AI سے اس قسم کی ویڈیوز بنانا، جس میں  بڑے لوگوں کے چہروں کو بچوں کے چہروں میں تبدیل کیے جائیں، شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟اگر ان ویڈیوز میں مشہور شخصیات کی نقل (voice cloning، face animation) کی جائے، تو کیا یہ جھوٹ یا فریب کے زمرے میں آئے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اے آئی سے تصویر یا ویڈیو بنوانا جائز ہے  ،بشرطیکہ  وہ  موسیقی  اور  بے حیائی پر مشتمل نہ ہو۔اگر اس کے بیک گراؤنڈ میں موسیقی کا استعمال کیا جائے ، یا وہ کارٹون ایسے ہوں جو بے حیائی پر مشتمل ہوں تو اس  کا بنوانا جائز نہیں۔ کارٹون وغیرہ بنانے کی اجازت بھی  ان شرائط کے ساتھ ہے کہ کارٹون کی شکل وغیرہ فرضی ہو،  کسی خاص انسان کی شکل کی نمائندگی نہ کرتی ہو۔اس کے علاوہ کارٹون کسی جائز مقصد ( جیسے، تعلیم وتربیت) کے لئے بنائے جائیں۔

کسی انسان کی شکل کو بگاڑنا  ، اس میں تغییر کرنا جائز نہیں ہے ، خواہ وہ  ڈیجیٹل طریقے سے کیوں نہ ہو، کیونکہ اس میں انسان کی شکل کو اس کی  اصلی ہیئت سے نکال کر  دوسری شکل بنانا ،مسخ  کرنا توہین کے زمرے میں آتا ہے ، جو کہ  جائز نہیں ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی  انسان کے چہرے کو بگاڑنا ، اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح کسی کی آواز کی نقل کر کے اس پر مختلف باتیں ریکارڈ کرنا (Voice Cloning) بھی جائز نہیں،کیونکہ اس سے مختلف قسم کی غلط فہیمیاں پیدا ہوتی ہیں  اور جس شخص کی آواز استعمال کی جاتی ہے، اس کی طرف جھوٹ کی نسبت  بھی ہوتی ہے، خاص کر آج کل سوشل میڈیا کے دور میں اس سے  بہت خرایباں جنم لے رہی ہے۔ لہذا  کسی  کی آواز  نقل کرکے اس پر باتیں ریکارڈ کرانا   (voice cloning) بھی جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارك وتعالی فی القرآن الکریم: ﵟوَلَأُضِلَّنَّهُمۡ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيۡطَٰنَ وَلِيّٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانٗا مُّبِينٗاﵞ [النساء: 119] 

تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (3/ 220):

{وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ}، قال ابن عَبَّاس: يعني بذلك خصي الدواب، وقد روي عن ابن عمر وأنس وسعيد بن المسيب وعكرمة وأبي عياض وقتادة وأبي صالح والثوري.

وقد ورد في حديث النهي عن ذلك، وقال الحسن بن أبي الحسن البصري: يعني بذلك الوشم.

وفي صحيح مسلم، النهي عن الوشم في الوجه، وفي لفظ: لعن الله من فعل ذلك.

وفي الصحيح عن ابن مسعود أنه قال: لعن الله الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله عز وجلت، ثم قال: ألا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله عز وجل؛ يعني قوله: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7].

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

22/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب