| 88188 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میں اس وقت جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ یہاں دورانِ تعلیم اگر ہم کسی کورین ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہیں، تو وہاں خنزیر، شراب وغیرہ جیسی حرام اشیاء بھی موجود ہوتی ہیں۔ اگر میں وہاں ویٹر (Waiter) کے طور پر کام کروں یا ڈیلیوری کا کام کروں یا کسی اسٹور میں ملازمت کروں جہاں مختلف حرام اشیاء فروخت ہوتی ہیں تو کیا ایسے مقامات پر کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس چیز کاکھانا پینا حرام ہے، اسے کھانے پینے کے لئے کسی کو فراہم کرنا یا فراہم کرنے میں کسی بھی طرح سے سہولت کاری کرنا بھی حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ میں معاونت کی صورت ہے۔مذکورہ صورت میں بطور بیرا(Waiter) کام کرنا جائز ہے بشرطیکہ حرام اشیاء کی فراہمی سے مکمل اجتناب برتا جائے،ان کے علاوہ جائز اشیاء کی فراہمی کے عوض ملنے والی اجرت حلال ہے۔اسی طرح اسٹور میں کام کرتے ہوئے بھی اس بات کی پابندی ضروری ہے کہ حرام اشیاء کی خرید وفروخت نہ کی جائے۔ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اگر پھر بھی غلطی سے کوئی حرام معاملہ سرزد ہوگیاتو اس کے بقدر آمدنی حرام ہوگی ۔ اس کو بلانیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم :
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة:02]
صحيح البخاري (2/ 779):
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة: (إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير، والأصنام). فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: (لا، هو حرام). ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: (قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه).
فقہ البیوع (1057/2)
أما الفنادق والمطاعم والخطوط الجوية التي تباع فيها الخمور والأشياء المحرمة فالأحسن المسلم متدين أن يجتنب عن التعامل معها مهما وجد لذلك سبيلا، وذلك لئلا يكون منه تشجيع لمن يتعاطون المحرمات، وليظهر نفرته من ذلك.أما قبول الوظائف في مثل هذه الفنادق والمطاعم، فإن كانت الوظيفة متمحضة الخدمة مباحة، فهى جائزة، وتجرى على راتبها حكم المال الحلال، وإن كانت متمحضة للحرام، مثل بيع الخمر، فهي حرام، وراتبها.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص340):
العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى، فإن سقي الخمر أو تقديمها إلى من يشربها حرام بنص صريح، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه.))
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
25/محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


