| 88220 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
جب سونے کا ریٹ کم ہوتا ہے،اس وقت خرید لیا جائے،قبضہ وغیرہ کر لیا جائے ،پھر جب ریٹ زیادہ ہوجائے تو اس کو بیچ دیا جائے۔اس میں حقیقی صارف میں نہیں تھا کیوں کہ مجھے خریداری کے وقت اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔جب خریداری کے لیے اصل صارف مارکیٹ میں آتا ہے تو (اس طرح کی) ٹریڈنگ کی وجہ سے(سونے کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے) خریداری اس کی دسترس سے باہر ہوچکی ہوتی ہے۔برائے کرم اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی بات یہ ہے کہ اگر سونا مارکیٹ میں مناسب قیمت پر عام دستیاب ہو، نہ مہنگا ہو، نہ اس کی قلت ہو، نہ ہی اس خریداری سے اس کی قلت پیدا ہونے اور لوگوں کو ضرر پہنچنے کا امکان ہو تو سونے(gold) کو اس نیت سے ضرورت سےزیادہ مقدار میں خریدنا کہ جب مہنگاہوگا تو بیچیں گے، ممنوع ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں۔ لیکن اگر مارکیٹ میں سونا مہنگا ہو یا اس کی قلت ہو یا بلا ضرورت خریداری کی وجہ سے مہنگا ہورہا ہو یا اس کی قلت پیدا ہو تو پھر بلا ضرورت سوناخرید کر قلت پیدا ہونے اور قیمتیں بڑھنے کے انتظار میں رکھنا ممنوع اور ناجائز ذخیرہ اندوزی میں داخل ہوگا، جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
نیزواضح رہےکہ سونے کی خرید وفروخت کے لیے شرعا مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
- بیچنے والا اس سونے کا مالک ہو۔
- سونے پریا اس کی قیمت پرفوری قبضہ ہو۔
- خریدنے والا اس سونے کو تب آگے بیچے ،جب اس نےسونے پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے سے قبضہ کرلیا ہو۔
- اس لین دین میں حقیقی سودا ہوتا ہو،نہ یہ کہ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانا مقصد ہو۔
- یہ سودا حقیقی طور پر ہوتا ہو،صرف اکاؤنٹ میں ظاہر ہو نا کافی نہیں ہے۔
- فوری سودا ہو،مستقبل کی طرف منسوب سودا(future sale) نہ ہو۔
- ادائیگی اور ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ سے اس میں سود شامل نہ ہو۔(تبویب:85217)
حوالہ جات
(الهداية :92/4)
قال: ويكره الاحتكار في أقوات الآدميين والبهائم إذا كان ذلك في بلد يضر الاحتكار بأهله، وكذلك التلقي، فأما إذا كان لايضر فلا بأس به. والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"، ولأنه تعلق به حق العامة، وفي الامتناع عن البيع إبطال حقهم وتضييق الأمر عليهم، فيكره إذا كان يضر بهم ذلك بأن كانت البلدة صغيرة، بخلاف ما إذا لم يضر بأن كان المصر كبيرا؛ لأنه حابس ملكه من غير إضرار بغيره.......... وتخصيص الاحتكار بالأقوات كالحنطة والشعير والتبن والقت قول أبي حنيفة رحمه الله، وقال أبو يوسف رحمه الله كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار وإن كان ذهبا أو فضة أو ثوبا، وعن محمد رحمه الله أنه قال: لا احتكار في الثياب، فأبو يوسف رحمه الله اعتبر حقيقة الضرر؛ إذ هو المؤثر في الكراهة، وأبو حنيفة رحمه الله اعتبر الضرر المعهود المتعارف.
(الدر المختار 398/6)
( و ) كره ( احتكار قوت البشر ) كتين وعنب ولوز ( والبهائم ) كتبن وقت ( في بلد يضر بأهله ) لحديث "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"، فإن لم يضر لم يكره.
رد المحتار (398/6)
قوله ( وكره احتكار قوت البشر ) الاحتكار لغة: احتباس الشيء انتظارا لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس، وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما؛ لقوله عليه الصلاة والسلام "من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس"، وفي رواية "فقد برىء من الله وبرىء الله منه"، قال في الكفاية: أي: خذله، والخذلان ترك النصرة عند الحاجة اه، وفي أخرى "فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا"، الصرف النفل والعدل الفرض، شرنبلالية عن الكافي وغيره. وقيل: شهرا، وقيل: أكثر. وهذا التقدير للمعاقبة في الدنيا بنحو البيع والتعزير، لا للإثم؛ لحصوله وإن قلت المدة. وتفاوته بين تربصه لعزته أو للقحط والعياذ بالله تعالى، در منتقى مزيدا. والتقييد بقوت البشر قول أبي حنيفة ومحمد، وعليه الفتوى، كذا في الكافي. وعن أبي يوسف كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار، وعن محمد الاحتكار في الثياب، ابن كمال.
(فقه البیوع :996-998/2)
الاحتکار أن یدخر الإنسان أشیاء الحاجة في انتظار غلائها ویمسکها عن البیع. وقد روي عن رسول الله صلی الله علیه وسلم أنه قال: "من احتکر فهو خاطئ."، وروي عنه صلی الله علیه وسلم أنه قال: "من احتکر علی المسلمین طعامهم ضربه الله بالجذام والإفلاس."، وروي عنه صلی الله علیه وسلم أنه قال: "الجالب مرزوق والمحتکر ملعون."……….. وخص معظم الفقهاء النهي بالأقوات وعلف الدواب إن أضر ذلك بأهل البلد. وروي عن محمد رحمه الله تعالیٰ أنه ممنوع في الثیاب أیضا. وعن أبي یوسف رحمه الله تعالی أنه ممنوع في کل ما أضر بالعامة، وهو مذهب المالکیة.
(تکملة فتح الملهم: 607/1)
والذي یبدو لهذا العبد الضعیف – عفا الله عنه – أن حرمة احتکار الطعام ثابتة بالحدیث من غیر شك، فکان أمرا تشریعیا معمولا به إلی الأبد؛ لأن حاجة الناس إلی الطعام أکثر منها إلی غیره. وأما احتکار الأشیاء الأخری فیفوض إلی رأي الحاکم، فإن رأی في احتکارها ضررا شدیدا نظیر الضرر في الطعام منعه وإلا أجازه، والله سبحانه أعلم.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
28.محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


