03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقد کے بجائے ادھار پر زیادہ قیمت کے عوض بیچنا نیز رہن رکھنے کا حکم
88940خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

چالیس لاکھ روپے مالیت کی گاڑی کو پچاس لاکھ روپے میں چھ ماہ کے ادھار پر بیچنا جائز ہے؟ادھار پر بیچنے والا شخص ضمانت کے طور پر پراپرٹی کے کاغذات اور کچھ سونا رکھ رہا ہے،گاڑی کی نقد پر مالیت چالیس لاکھ روپے ہے،ادھار پر پچاس لاکھ میں بیچ رہا ہے اور پلاٹ کی قیمت پینتالیس لاکھ روپے ہے جبکہ سونے کی قیمت اٹھارہ لاکھ روپے ہے۔(1)اس طرح بیچنے کا کیا حکم ہے؟(2)ضمانت پر جو چیزیں رکھی جارہی ہیں اس حوالے سے بھی رہنمائی فرمائیں،اس کے کیاشرعی احکامات ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)واضح رہے کہ خریدوفروخت کا معاملہ کرتے وقت مبیع(وہ چیز جسے بیچا یا خریدا جارہا ہے) اور اس کی قیمت کا متعین ہونا ضروری ہے،اسی طرح نقد خریدوفروخت کی صورت میں کم قیمت رکھنا اور ادھار خریدوفروخت کی صورت میں زیادہ قیمت رکھنا درج ذیل شرائط کی پابندی کے ساتھ جائز ہے؛

1۔معاملہ کرتے وقت ہی خریدار اور فروخت کنندہ یہ متعین کر لیں کہ وہ معاملہ نقد کر رہے ہیں یا ادھار۔

2۔ادھار معاملہ کی صورت میں  ادھار کی مدت  بھی متعین کرلی جائے۔

3۔مدت میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کے نام سے قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

درج بالا تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ چالیس لاکھ روپے مالیت کی گاڑی، پچاس لاکھ روپے میں،چھ ماہ کے ادھار پر بیچنا،درج بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے،جائز ہے۔

(2)رہی بات ضمانت کے طور پر پراپرٹی کے کاغذات اور سونا رکھنے کی، جن میں سے پراپرٹی کی قیمت پینتالیس لاکھ روپے اور سونے کی قیمت اٹھارہ لاکھ روپے ہے،شریعت کی اصطلاح میں مذکورہ ضمانت کو رہن کہتے ہیں،رہن کے بعض ضروری احکامات ملاحظہ ہوں؛

  • سوال میں مذکور صورت میں رہن رکھنا جائز ہے۔
  • گاڑی بیچنے والا شخص ضمانت کے طور پر جو پلاٹ اور سونا رکھ رہا ہے،اس پر باقاعدہ مکمل قبضہ حاصل کرے تو شرعاً یہ رہن معتبر اور لازم ہوگا۔
  • پلاٹ اور سونے کا مالک مذکورہ پلاٹ اور سونااپنی دیگر تمام اشیاء سے علیحدہ کرکے ، گاڑی بیچنے والے کے حوالے کرے۔
  • رہن رکھنے والے یعنی مذکورہ سوال میں گاڑی بیچنے والے کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ رہن یعنی پلاٹ اور سونے کو استعمال کرے یا اس سے کسی قسم کی منفعت حاصل کرے،بلکہ حفاظت کے ساتھ اسے بغیر استعمال میں لائے،رکھنا ضروری ہے۔
حوالہ جات

الهداية شرح البداية: (3 / 22)

قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى{ وأحل الله البيع } وعنه عليه الصلاة والسلام أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه ولا بد أن يكون الأجل معلوما۔

حاشية ابن عابدين : (5 / 142)

ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا۔

البحر الرائق : (16 / 221)

لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل ، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة۔

الفقه الإسلامي وأدلته :(5 / 147)

أجاز الشافعية والحنفية والمالكية والحنابلة وزيد بن علي والمؤيد بالله والجمهور: بيع الشيء في الحال لأجل أو بالتقسيط بأكثر من ثمنه النقدي إذا كان العقد مستقلاً بهذا النحو، ولم يكن فيه جهالة بصفقة أو بيعة من صفقتين أو بيعتين، حتى لايكون بيعتان في بيعة.

المبسوط للسرخسي (13/ 7)

وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.

الموسوعة الفقهية الكويتية (10/ 290، بترقيم الشاملة آليا)

إذا باع سلعةً بألف حالّةً أو ألف ومائة إلى سنة ، وقد وجب عليه أحدهما ، فإن عيّنا أحد الثّمنين قبل الافتراق جاز البيع ، وإن افترقا على الإبهام لم يجز .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 477)

(الرھن) لغة: حبس الشيء. وشرعا حبس شيء مالي بحق يمكن استيفاؤه منه كالدين حقيقة أو حكما.

الفتاوى الهندية (5/ 432)

وأما شرط جوازه فأن يكون المال المرهون مقسوما محوزا فارغا عن الشغل، وأن يكون بحق يمكن استيفاؤه من الرهن.

الفتاوى الهندية (5/ 433)

لا يجوز الرهن إلا مقبوضا فقد أشار إلى أن القبض شرط جواز الرهن قال الشيخ الإمام الأجل المعروف بخواهر زاده الرهن قبل القبض جائز إلا أنه غير لازم، وإنما يصير لازما في حق الراهن بالقبض، وكان القبض شرط اللزوم لا شرط الجواز كالقبض في الهبة والأول أصح كذا في المحيط ثم في ظاهر الرواية قبض الرهن يثبت بالتخلية كما في البيع، وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا يثبت في المنقول إلا بالنقل، والأول أصح، وما لم يقبضه فالراهن بالخيار إن شاء سلم، وإن شاء رجع عن الرهن فإذا سلمه إليه، وقبضه دخل في ضمانه بالقبض كذا في الكافي.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

28.محرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب