03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لاپتہ شوہر کے ملنے پر  عورت شوہر اوّل کے نکاح میں رہے گی یا شوہر ثانی کے نکاح میں؟
88207طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک عورت کا شوہر چھ سال تک غائب رہا، اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ اس عورت نے عدالت کے ذریعے فسخِ نکاح کا فیصلہ کروا کر حسبِ ترتیب دوسری جگہ نکاح کر لیا۔ اب شوہرِ اوّل کے آنے کے بعد اس عورت کے لیے کیا حکم ہے؟ شوہرِ ثانی سے اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا اور وہ پہلے شوہر کو ملے گی؟ یا عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے عقد میں رہنا چاہے، رہے؟

فتاویٰ عالمگیریہ کی عبارت"و ان تزوجت فلا سبیل لہ علیھا" کے مطابق وہ شوہرِ ثانی کے  پاس رہے گی اور شامیہ کی عبارت"و نقل أن زوجتہ لہ والاولاد للثانی" کے مطابق وہ شوہرِ اوّل کو ملے گی۔(فتاویٰ عالمگیریہ ص۳۰،ج۴، شامیہ ص۴۵۶،ج۶)

اب "أوفق  للزمان "کون سا قول ہوگا؟ کس کو ترجیح دی جائے گی؟ اور اگر عورت شوہرِ اوّل کے ساتھ نہ رہنا چاہے  بلکہ  شوہرِ ثانی کے ساتھ ہی رہنا چاہے، تو پھر کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد اگر پہلا شوہر واپس لوٹ آئے( خواہ عدت کے اندر لوٹے یا عدت مکمل ہونے کے بعد) بہردو صورت دوسرے شوہر سے فوری طور پر علیحدگی ضروری ہو گی اور  عورت کا پہلے شوہر سے نکاح برقرار سمجھا جائے گا اور بغیر نکاحِ جدید پہلے شوہر کو عورت کو اپنے پاس ٹھہرانے کا حق حاصل ہو گا، اس میں عورت کی رضامندی کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ وہ شخص ابھی تک زندہ تھا اور عورت کا شرعی اصولوں کے مطابق اس کے ساتھ نکاح ہوا تھا، اس لیے حقیقت میں ابھی تک عورت اس کے نکاح میں موجود تھی، اس کی عدم موجودگی میں عورت کو بامر مجبوری دوسری جگہ نکاح کی اجازت دی گئی تھی، جب وہ مجبوری ختم ہو گئی تو عورت پہلے شوہر کے پاس واپس لوٹے گی۔ جہاں تک دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کا تعلق ہے تو اگر دوسرا شوہر ازدواجی تعلقات قائم کر چکا ہو تو اس صورت میں دوسرے شوہر کی عدت (یہ عدتِ طلاق شمار ہو گی، جو کہ تین ماہواری ہے) گزارنا بھی ضروری ہو گا اور یہ عدت بھی پہلےشوہر کے پاس رہ کر ہی گزاری جائے گی۔ (احسن الفتاوی  بتصرف:421/5)

لہٰذا دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد پہلے شوہر کے واپس لوٹنے پر اگر بیوی اس کے پاس نہ جانا چاہے تو اس سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لینا ضروری ہے،  اس کے بعد  عدت  گزار کر گواہوں کی موجودگی میں  نئے مہر کے ساتھ دوسرے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے، ورنہ نہیں۔

فتاوی عالمگیریہ اور دیگر فتاوی کے اقوال میں جو تعارض ہے تو اس کے متعلق جان لیجئے کہ فقہی متون میں اختلافِ اقوال کا منقول ہونا  کوئی بعید از فہم بات نہیں ، یہ فقہ کی وسعت  کی دلیل ہے، تاہم فتویٰ  میں  مفتیٰ بہ قول   اور جمہور فقہاء  کی رائے کو اختیار کیا جاتا ہے۔

سوال میں مذکور  فتاوی عالمگیریہ کی عبارت "و إن تزوجت فلا سبیل له علیها" دراصل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول پر مبنی ہے کہ:

"اگر کسی عورت کو اس کے شوہر کی وفات کی خبر ملی، اس نے عدت گزاری، پھر دوسرا نکاح کر لیا، اور پھر پہلا شوہر زندہ واپس آ گیا، تو اب پہلے شوہر  کو اختیار  ہےکہ وہ عورت کو اپنے پاس واپس لے یا  اپنے دئیے ہوئے مہر کو واپس لے لے"۔

ابن قیمؒ نے "إعلام الموقعين" میں مہر کے متعلق  امام احمدؒ سے دو روایتیں نقل کی ہیں:

ایک روایت یہ ہے کہ شوہرِ اول دوسرے شوہر کے دیے گئے مہر کا مطالبہ کرے گا۔

دوسری(اور اصح)  روایت یہ ہے کہ  شوہرِ اوّل اپنے ہی دیے گئے مہر کا مطالبہ کرے گا، کیونکہ وہ بُضعہ کا مالک اپنے مہر کے بدلے میں ہوا تھا اور جب بُضعہ اس کے قبضے سے نکل گیا تو وہ اپنے مہر پر رجوع کرے گا۔

لیکن بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قول سے رجوع فرما لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو اختیار کیا کہ عورت کو اس کے پہلے شوہر کی طرف لوٹایا جائے گا، دوسرے شوہر سے فوراً جدا کیا جائے گا۔تاہم پہلے شوہر کو عدت مکمل ہونے تک تعلق قائم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔"(المبسوط، للسرخسي، ج11، ص37)

یہی موقف حضرت ابراہیم نخعیؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام محمدؒ، امام مالکؒ اور دیگر جمہور فقہاء کا ہےاور اسی پر فتویٰ بھی دیا جاتا ہے۔

اس قول کی ایک وجہ ترجیح "استصحابِ حال "بھی ہے  کہ لاپتہ شوہر کو قاضی نے  مردہ قرار دے کر نکاح فسخ کیا تھا،  یہ ایک امرِ مجبوری تھا ،لیکن جب وہ زندہ واپس آ گیا تو مجبوری زائل ہوگئی اور  استصحاب حال (یعنی نکاح اول کے  باقی رکھنے) کو ترجیح دی جائے گی، لہٰذا پہلا نکاح برقرار تصور ہو گا اور عورت کو پہلے شوہر کی طرف لوٹایا جائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية: (559/1، ط: دار الفكر):

رجل غاب عن امرأته فتزوجت بزوج آخر، ودخل بها فعاد الزوج الأول فرق ‏القاضي بينها وبين الزوج الثاني، وكان عليها العدة، ولا نفقة لها في عدتها لا ‏على الأول، ولا على الثاني.

المبسوط للسرخسي  ( كتاب المفقود، ج11، ص37، ط: دار المعرفة بيروت):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس كما قال الله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] فكيف يستقيم تركها مع الثاني، وإذا اختار الأول المهر، ولكن يكون النكاح منعقدا بينهما فكيف يستقيم دفع المهر إلى الأول، وهو بدل بضعها فيكون مملوكا لها دون زوجها كالمنكوحة إذا وطئت بشبهة، فعرفنا أن الصحيح أنها زوجة الأول، ولكن لا يقربها لكونها معتدة لغيره كالمنكوحة إذا وطئت بالشبهة.

إعلام الموقعين عن رب العالمين ابن القيم - أبو عبد الله محمد بن أبي بكر ابن قيم الجوزية(ص27،ج  2):

فمسألة المفقود هي مما يوقف فيها تفريق الإمام على إذن الزوج إذا جاء كما يقف تصرف الملتقط على إذن المالك إذا جاء ، والقول برد المهر إلى الزوج بخروج بضع امرأته عن ملكه ، ولكن تنازعوا في المهر الذي يرجع به : هل هو ما أعطاها هو أو ما أعطاها الثاني ، وفيه روايتان عن أحمد : إحداهما يرجع بما مهرها الثاني ; لأنها هي التي أخذته ، والصواب أنه إنما يرجع بما مهرها هو ; فإنه الذي يستحقه ، وأما المهر الذي أصدقها الثاني فلا حق له فيه ،      

     حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   30 /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب