03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی میراث کی تقسیم کا حکم
88263میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 میرے والد صاحب کا انتقال 6 سال پہلے ہوا تھا ۔وفات کے وقت  والد صاحب کے ورثاء میں میری والدہ  اور ہم تین بہن  بھائی تھے، جس میں سے میرے بڑے بھائی کا5 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، ان کے دو بیٹے اور اہلیہ ہیں۔ میری بڑی بہن شادی شدہ ۔اب اس طرح میں اور میری بڑی بہن اور والدہ حیات ہیں۔ ہمارے گھر کی کل قیمت 23 لاکھ 50 ہزار روپے  ہے۔ یہ رقم ہمارے درمیان کس طرح تقسیم کی جائے گی ؟اور کیا ان پوتوں(بڑھے بھائی صباحت  کے بیٹے جو والد مرحوم کی وفات کے وقت زندہ تھا) کو بھی اس میں سے حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

سوال میں پوچھی گئی صورتوں کا حکم درج ذیل ہے:

الف۔ جس بیٹے(صباحت) کا انتقال آپ کے والد مرحوم کے انتقال کے ایک سال بعد ہوا ہے، اس کی میراث کا حصہ اب اس کی ماں، اہلیہ اور بچوں  کو  ملے گا، کیونکہ اس کا انتقال والد کی وفات کے بعد ہوا ہے اور والد کی وفات کے  وہ بحیثیت وارث موجود تھا۔

ب۔اگر انتقال کے وقت ورثاءصرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تووالد مرحوم کا  کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ  بیوہ کوکل مال کا آٹھواں  حصہ ملے گا ، باقی ماندہ سات حصوں کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔

والد مرحوم کے کل مال کے  40 حصے بنائے جائیں گے،جس میں سے  مرحوم کی بیوہ کو5،بیٹی کو 7 ،جبکہ ہر بیٹے  کو 14  حصے ملیں گے۔

فیصدی لحاظ سے  بیوہ کو 12.50%،بیٹی کو% 17.50،جبکہ ہر بھائی کو 35% ملے گا۔

تقسیم درج ذیل  نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں :

ورثاء

عددی حصہ

حصص

فیصد

بیوہ(ساجدہ)

5

293,750

12.5%

بیٹی(نجمہ)

7

411,250

17.50%

بیٹا(صباحت)

14

822,500

35%

بیٹا(عدیل)

14

822,500

35%

مجموعہ

40

2,350,000

100

والد مرحوم کی میراث کی تقسیم کے بعد اب اس کے مرحوم بیٹے(صباحت) کی میراث تقسیم  ہوگی،جس میں ان کواپنےوالد سے   فیصد سےملنےوالاحصہ35 فیصد (822,500) ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

مرحوم بیٹے (صباحت)کی میراث کی تقسیم یوں ہوگی:

مرحوم بیٹے صباحت  کی بیوہ کو  آٹھواں حصہ ملے گا، مرحوم کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا ، باقی مال مرحوم کے دو نو ں بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا۔

ورثاء

عددی حصہ

حصص

فیصد

ماں(ساجدہ)

8

137,083.33

16.66%

بیوہ(رابعہ)

6

102,812.50

12.50%

بیٹا(حنان)

17

291,302.08

35.41%

بیٹا(کاشان)

17

291,302.08

35.41%

مجموعہ

48

822,500.00

100%

والد مرحوم کی کل میراث  کے 960حصے بنائے جائیں گے ۔ساجدہ کو 176حصے ملیں گے،عدیل کو 336،نجمہ مختار کو 168،رابعہ کو42،حنان کو 119 اورکاشان کو بھی 119حصہ ہی ملیں گے۔

زندہ ورثاء کا کل ترکہ درج ذیل ہو گا:

المبلغ : 960

الاحیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ورثاء

عددی حصہ

حصص

فیصد

ساجدہ

176

430,833.33

18.33%

عدیل

336

822,500.00

35%

نجمہ

168

411,250.00

17.50%

رابعہ

42

102,812.50

4.37%

حنان

119

291,302.08

12.39%

کاشان

119

291,302.08

12.39%

مجموعہ

960

2,350,000

100%

حوالہ جات

سورة النسآء، آیت نمبر ۱۱ :

﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾

سورة النسآء، آیت نمبر ۱۲ :

ﵟفَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ 

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

30/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب