| 88234 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص فوت ہوا، وفات کے وقت اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور چھ بیٹیوں میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ جبکہ اس کے دادا، دادی والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہو چکا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا وہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے غیروارث کے لیےکوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعدجو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو اور بقیہ ترکہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
14 |
%12.5 |
|
2 |
بیٹا |
14 |
%12.5 |
|
3 |
بیٹا |
14 |
%12.5 |
|
4 |
بیٹا |
14 |
%12.5 |
|
5 |
بیٹا |
14 |
%12.5 |
|
6 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
7 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
8 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
9 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
10 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
11 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
12 |
مجموعہ |
112 |
100 |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
القرآن الکریم : [النساء: 12] :
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
30/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


