03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کون کون سی اشیاء ترکہ شمار ہوں گی؟
88248میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم شوہر کباڑ کا کام کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے پاس موجود کباڑ کا سامان ترکہ میں شمار ہوگا یا نہیں؟ نیزیہ بھی وضاحت درکار ہے کہ شرعی طور پر ترکہ میں کون کون سی چیزیں شامل کی جائیں گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکسی شخص کے انتقال کے بعد، اس کی تمام مملوکہ اشیاء (جیسے کاروبار، نقدی، سونا، چاندی، ذاتی استعمال کی چیزیں وغیرہ) شرعی ترکہ شمار ہوتی ہیں اور ان میں تمام شرعی ورثاء اپنے حصے کے مطابق شریک ہوتے ہیں۔

اگر میت نے زندگی میں کسی چیز کا تحفہ دے کر قبضہ بھی کروا دیا ہو تو وہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگی۔

ترکہ کی تقسیم سے پہلے درج ذیل امور کیے جائیں گے:

(۱)کفن دفن کے اخراجات (اگر وارث نے تبرع نہ کیا ہو)۔

(۲)میت کے واجب قرض کی ادائیگی۔

(۳)غیر وارث کے لئے کی گئی جائز وصیت (ترکہ کے 1/3 حصے تک)

ان سب کے بعد باقی مال ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

لہٰذا، مرحوم شوہر کا کباڑ کا کاروبار اور دیگر اشیاء جو وفات کے وقت ان کی ملکیت میں تھیں، سب ترکہ شمار ہوں گی اور شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ہوں گی۔

حوالہ جات

«القرآن الکریم » (النساء، الایة: 12):

«وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 759):

«(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال ‌صافيا ‌عن ‌تعلق ‌حق ‌الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.»

«الاختيار لتعليل المختار» (5/ 85):

«قال: (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها، ثم تقضى ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ‌ثم ‌يقسم ‌الباقي ‌بين ‌ورثته) فهذه الحقوق الأربعة تتعلق بتركة الميت على هذا الترتيب.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب