| 88249 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم شوہر کباڑ کا کام کرتے تھے،کیا بیوہ کباڑ کا سامان فروخت کرسکتی ہے؟ اگر کسی نے اس میں سے کچھ فروخت کیا تو حاصل شدہ رقم اسی کے ہوں یا دیگر ورثہ کا بھی اس میں حق ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وراثت ایک شرعی حق ہے، جس میں تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔ کسی بھی وارث کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر مشترکہ ترکہ کو استعمال کرے یا اسے فروخت کرے۔ قرآن و سنت میں اس رویے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں بیوہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل کباڑ کے سامان کو از خود فروخت کرے۔ اسی طرح اگر کسی دوسرے وارث نے دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں سے کوئی چیز فروخت کیا، تو ایسی بیع شرعاً فاسد ہے۔ فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں پر لازم ہے کہ اس بیع کو ختم کرکے فروخت شدہ سامان کو واپس کرے۔اور اگر فسخ ممکن نہ ہو، مثلاً فروخت شدہ سامان واپس لینا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں حاصل شدہ رقم فروخت کرنے والے وارث کی ذاتی ملکیت شمار نہیں ہوگی، بلکہ اس رقم میں بھی تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے حصے کے مطابق شریک ہوں گے۔
حوالہ جات
«مشكاة المصابيح» (2/ 926):
«وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 301):
«وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا.»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 96):
«(المادة 96) :لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار... كذلك ليس لأحد الشركاء أن يركب الحيوان المشترك أو أن يحمله متاعا بدون إذن الشريك الآخر فإذا ركبه أو حمله وتلف يكون ضامنا حصة الشريك.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص362):
«ولو كانت الدار مشتركة بينهما باع أحدهما بيتا معينا أو نصيبه من بيت معين فللآخر أن يبطل البيع.
وفي الواقعات: دار بين رجلين باع أحدهما نصيبه لآخر لم يجز،»
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 52):
«قال: "ولكل واحد من المتعاقدين فسخه" رفعا للفساد، وهذا قبل القبض ظاهر؛ لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعا منه، وكذا بعد القبض إذا كان الفساد في صلب العقد لقوته،»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
30/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


