03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی میراث کی تقسیم
88250میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر  کا انتقال ہوا ہے،ہمارا کوئی حقیقی اولاد نہیں  ہے، شوہر کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ شرعی لحاظ سے  مرحوم شوہر کی میراث کیسے تقسیم کی جائے  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض (اگر ہو )کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ترکہ کو  مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ بالاامورسرانجام دینےکےبعدشوہرکی میراث اس طرح تقسیم کی جائے کہ شوہر کی کل میراث کے8حصےبنائے جائیں ۔جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 2 حصے ،ہر بہن  کو  1 حصہ اور  ہر بھائی کو 2 حصے ملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے 25%مرحوم کی بیوہ کو، 12.5%ہر بہن کو اور 25%ہر بھائی کوملےگا۔

آسانی کےلئے درج ذیل نقشہ ملاحظہ فرمائیں :

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

بیوہ

2

25%

بہن 1

1

12.5%

بہن 2

1

12.5%

بھائی 1

2

25%

بھائی 2

2

25%

مجموعہ

8

100%

حوالہ جات

[النساء: 11]

«‌يُوصِيكُمُ ‌اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ»

[النساء: 12

« وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ‌فَإِنْ ‌كانَ ‌لَكُمْ ‌وَلَدٌ ‌فَلَهُنَّ ‌الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِها أَوْ دَيْنٍ »

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب