03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معلق طلاق سے رجوع کاحکم
88211طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک خاتون، جو تین بچوں کی ماں ہے، کے شوہر نے غصے میں کہا"اگر تم اپنی بڑی بہن کے گھر گئی تو تمہیں تین طلاق"

کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب حالات معمول پر آ گئے تو شوہر نے کہا کہ"میں نے تو غصے میں ویسے ہی کہا تھا، اب تم اپنی بڑی بہن کے گھر جا سکتی ہو"لیکن وہ خاتون اب بھی اپنی بڑی بہن کے گھر جانے سے گریزاں ہے، اس ڈر سے کہ کہیں طلاق واقع نہ ہو جائے۔ اس حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے کہ آیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کا یہ قول"اگر تم اپنی بڑی بہن کے گھر گئی تو تمہیں تین طلاقیں" معلّق طلاق یعنی مشروط طلاق کی صورت ہے، جس سے رجوع ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر بیوی شرط پوری کرتی ہے، یعنی واقعی اپنی بڑی بہن کے گھر چلی جاتی ہے، تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، چاہے شوہر کا ارادہ طلاق دینے کا ہو یا نہ ہو۔

تین طلاق سے بچنے کا شرعی حل یہ ہے کہ شوہر پہلے مذکورہ بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے، پھر بیوی عدّت مکمل کرے۔ عدّت کے بعد، چونکہ وہ شوہر کے نکاح میں نہیں ہوگی، اس لیے وہ اپنی بڑی بہن کے گھر چلی جائےجس سے شرط پوری ہوجائے گی اوربیوی نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس کے بعد دونوں شرعی طریقے سے نیا نکاح  کرکے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کر یں۔ البتہ اس صورت میں شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط ضروری ہوگی۔

حوالہ جات

الهداية (ص: 243) :

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا .

في الدر المحار ( ۳۷۲/۳):

 فحيلته من علق الطلاق الثلاث بدخول الدار ان يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخل تنحل اليمين فينكحها.

فی الھندیۃ :

و لو قال لھا اذا دخلت الدار أو کلمت فلانا أو صلیت الظھر اذا جاء رأس الشھر فانت طالق ثنتین ( الی قولہ ٰ) لان الرجوع عن التعلیق لا یصح فلا یمکنہ التدارک الخ ( باب فی الاقرار بالنکاح ، ج 4 ، ص 209 .
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا تم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ) .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/1/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب