03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مارکیٹ سے نقد سونا خرید کر حاجت مند کو ادھار بیچنے کا حکم
88268خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک شخص کو 15 لاکھ روپے کی فوری ضرورت تھی، اگر میں اسے نقد رقم دیتا اور بعد میں 18 لاکھ روپے لیتا تو یہ سود ہوتا، اس لیے میں نے بازار سے نقد رقم دے کر 15 لاکھ روپے کا سونا خریدا،اس پر قبضہ بھی کیا، رسید بھی لی، یعنی سونا مکمل طور پرمیری ملکیت اور قبضہ میں آ گیا، پھر میں نے وہ سونا اس شخص کو ادھار پر 18 لاکھ روپے میں 2 ماہ کی مدت پر فروخت کیا، تحریری معاہدہ بھی کیا اور اس کو کہا کہ اب یہ سونا تمہارا ہے، تم جو چاہو کرو اور اس کو جہاں چاہو بیچو، اس نے وہ سونا فوراً بازار میں کسی دکاندار کو  بیچ کر 15 لاکھ روپے لے لیے، دکاندار نے اس سے تولہ کے حساب سے 5 ہزار کٹوتی کی۔ اس معاملہ میں میری نیت یہ تھی کہ میں نقد پیسے دے کر سود پر نفع نہ کماؤں، بلکہ باقاعدہ تجارت (بیع) کے ذریعے منافع لوں، اب سوال یہ ہے کہ: 1۔کیا میری یہ ادھار بیع شرعاً جائز ہے؟2۔ کیا یہ صورت سود (ربا) کے زمرے میں تو نہیں آتی؟3۔اگر یہ ناجائز ہے تو اس سے بچنے کا شرعی طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہم نے اسی دکاندار کو سونا واپس بیچنا طے نہیں کیا تھا، بلکہ میں نے سونا اس کو بیچ کر مکمل اختیار دیا کہ جو چاہے کرے، پھر میں دکان سے باہر نکل آیا، اس کے بعد مجھے علم نہیں کہ اس نے کس کو بیچا؟نیزیہ سونا ڈلی کی شکل میں خرید کر دوسرے شخص کو بیچا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2،3: واضح رہے کہ کاغذی نوٹوں کے عوض سونے چاندی کی خریدوفروخت بیع صرف نہیں ہے، لہذا اس میں ادھار کی گنجائش ہے، البتہ مجلس عقد میں ایک عوض پر قبضہ کرنا لازمی ہے، دوسری بات یہ کہ سونا اور کرنسی اگرچہ دونوں اموالِ ربویہ میں سے ہیں، مگر چونکہ ان کی جنس ایک نہیں ہے اس لیے ان کا آپس میں تبادلہ اصولی طور پر کم یا زیادہ کسی بھی قیمت پر جائز ہونا چاہیے، لیکن چونکہ ان کا ادھار تبادلہ اس بناء پر سود کا حیلہ بن سکتا ہے کہ ان کا لین دین اور تبادلہ بہت آسان ہے، اس لیے سود کا دروازہ بند کرنے کے لیے ان کا ادھار تبادلہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر جائز نہیں ہے۔

اس تمہید کی روشنی میں صورتِ مسئولہ میں آپ کا ڈلی کا سونا مارکیٹ ریٹ کے مطابق خرید کر دوسرے شخص کو ادھار مہنگے داموں کو فروخت کرنا جائز نہیں تھا، اب اس کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ نے ابھی تک دوسرے شخص سے سونے کی قیمت وصول نہیں کی تو آپ اس سے مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت ساقط کر دیں اور اگر رقم وصول کر چکے ہیں تو زائد رقم اس کو واپس کر دیں، نیز اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار بھی کریں اور آئندہ کے لیے اس طرح کا معاملہ کرنے سے پرہیز کریں۔

 آئندہ کے لیے اس کا جائز متبادل یہ ہے کہ آپ پندرہ لاکھ روپے کے عوض کوئی گاڑی وغیرہ خرید کر قبضہ کرنے کے بعد اس شخص کو مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر فروخت کر دیں تو اس صورت میں آپ کے لیے نفع لینا جائز ہو گا، بشرطیکہ بیچی گئی چیز واپس اسی شخص (جس نے آپ کو بیچی تھی) کو بیچنا طے نہ کیا جائے، بلکہ خریدار بازار میں کسی بھی دکاندار کو بیچ کر رقم حاصل کر سکتا ہو۔   

حوالہ جات

فقه البيوع  للشيخ محمد تقي العثماني (ج ۲ ص ۷۶۲) مكتبة معارف  القرآن كراتشي:

وكذلك يختلف حكم شراء على الذهب والفضة بالنقود الورقية على الموقفين، فان على الموقف الثاني الذي يجرى أحكام الصرف على النقود الورقية ، لا يجوز شراء حلى الذهب أو الفضة بالنقود الورقية الا بتقابض البدلين في مجلس العقد، ولا يجوز فيه تاخير . قبض أحد البدلين . وهو الذي يفتى به اصحاب الموقف الثاني ولكن تجار الحلى يشعرون فيه بعسر شديد... أما على الموقف الثالث الذي رجحته ورجحه كثير من علماء شبه القارة الهندية والذي ذكرت أدلته فيما سبق على مذهب الإمام محمد رحمه الله تعالى ، فانه يجوز شراء حلى الذهب والفضة بالنقود الورقية نسيئة ، بشرط أن يكون بسعر يوم العقد ، ولا يشترط فيه التقابض بل لا يشترط قبض الحلى الحقيقي ، وإنما يكفى تعيين الحلى ، لأن النقود الورقية في التحكم الفلوس فى أحكام الصرف فقط، وشراء الحلى بالفلوس لا يشترط فيه التقابض عند الحنفيه ، بل يكفى تعيين الحلى قال السرخسي رحمه الله تعالى :

"وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه قص ، أو لبس فيه قص بكذا فلسا ، وليست الفلوس عنده فهو جائز إن تقابضا قبل التفرق أو لم يتقابضا ؛ لأن هذا بيع ، وليس بصرف فإنما افترقا عن عين بدين، لأن الخاتم يتعين بالتعيين بخلاف ما سبق فإن الدراهم والدنانير لا تتعين بالتعيين ؛ فلهذا شرط هناك قبض أحد البدلين في المجلس ، ولم يشترط هنا ".

بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة (164/1)وزارة الأوقاف والشئوون الإسلامية، قطر :

ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات المختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربوا مثلا إذا أراد المقرض أن يطالب بعشر روبيات على المائة المقرضة، فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مئة وعشر ربيات. وسدّاً لهذا الباب، فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر السوق السائد عند العقد .

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

2/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب