| 88255 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میں نے اپنی ملکیت اپنے ایک بیٹے کے نام انتقال کیا ہے، حالانکہ اس کے علاوہ میری نو بیٹیاں بھی ہیں جنہیں میں نے اس جائیداد سے محروم رکھا ہے۔ اب مجھے اپنے اس عمل پر ندامت ہو رہی ہے، لیکن بیٹا وہ جائیداد واپس کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
مجھے اخروی مؤاخذہ کا خوف لاحق ہے، اس لیے آپ حضرات سے گزارش ہے کہ براہِ کرم کوئی ایسا حل تجویز فرمائیں جو دنیا و آخرت میں فلاح و نجات کا ذریعہ بن سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کوئی شخص اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو شرعًا یہ ہبہ شمار ہوتا ہے۔ اس میں اصل اور بہتر تو یہ ہے کہ تمام اولاد یعنی لڑکوں اور لڑکیوں سب کو برابر برابر حصہ دے، لیکن اگر میراث کے مطابق یعنی لڑکے کو لڑکی سے دگنا حصہ دے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ کسی ایک یا چند بچوں، بالخصوص بیٹیوں کو بالکل محروم کرنا یا بہت معمولی حصہ دینا جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہوگا۔
صورت مسئولہ میں کل جائیداد بیٹے کے نام کرنے سے مراد اگر یہ ہے کہ آپ نے صرف کاغذات میں انتقال بیٹے کے نام کر دیا ہےاور جائیداد باقاعدہ اس کے قبضہ و تصرف میں نہیں دی،تو چونکہ صرف نام کرنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا آپ اس میں سے اپنی بیٹیوں کو حصہ دلوا سکتے ہیں۔ لیکن اگرانتقال کے ساتھ ساتھ قبضہ و تصرف بھی بیٹے کے حوالے کر دیا ہے تو اب وہ اس کی ملکیت ہے،اس کی رضامندی کے بغیر واپس لینا درست نہیں۔
اب اس کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ والد بیٹیوں کو بھی بیٹے کی جائیداد کے بقدر حصہ دے دے اوراگر والد کے پاس کچھ اور جائیداد نہ ہو تو بیٹے کو چاہیے کہ والد کو اس گناہ سے بچانے کے لیے وہ بہنوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ دے دے، تاکہ کسی کو بھی آخرت میں پریشانی کا سامنا نہ ہو ۔ اگر بیٹا حصہ نہیں دیتا اور والد کے پاس بھی جائیداد نہیں ہے، اور والد کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی بہنوں کو اس جائیداد میں سے (اسے میراث سمجھتے ہوئے) بہنوں کا حصہ دے دیتے ہیں اور بہنیں راضی ہوجاتی ہیں تو امید ہے کہ اس صورت میں بھی والد اُخروی مواخذے سے بچ جائیں گے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (النساء : ١٢):
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ...
مشکاۃ المصابیح (1/261باب العطایا، ط: قدیمی)
و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاماً ، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال : لا قال : «فأرجعه» و في رواية قال : «فاتقوا الله و اعدلوا بين أولادكم»'۔اھ
الفتاوى العالمكيرية : (4/377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاء هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.
شرح المجلۃ (1/264، مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي".
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03 /صفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


