03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر وقف مدرسے کو کوئی چیز عاریت پر دے کر اس کی رقم وصول کرنے کا حکم
88300امانت ودیعت اورعاریت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

میرے پاس مدرسہ کے پانی کی مد میں بیس ہزار روپے جمع ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ذاتی پیسوں  سے ایک واٹر ڈسپینسر(Dispenser) خرید کر مدرسے میں رکھ دیا تھا ،جو بچوں کے روز مرہ استعمال میں ہے۔ میں نے یہ نیت کی تھی کہ یہ وقتی طور پر رکھ رہا ہوں ،بعد میں  جب ضرورت ہوگی تو واپس لے لوں گا ۔اب میں چاہتا ہوں کہ وہ ڈسپینسر  (Dispenser) کی قیمت (جو میں نے خود دی تھی) ان  جمع شدہ پیسوں سے لے لوں۔ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا؟

تنقیح:مدرسہ وقف شدہ نہیں ہے، سائل کے بڑے بھائی کی ملک ہے۔سائل کے ذمے اہتمام و انصرام ہے اور اس کے عوض ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں۔ مدرسے کے ساتھ ایک اسکول بھی  ہے جس کی فیس کے ذریعے مدرسے کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ سائل(مہتمم) بھی اپنی تنخواہ اسی فی (Fee)سے  حاصل کرتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید یہ واضح رہے کہ عام حالات میں  شریعت مطہرہ نے ایک ہی شخص کو خرید و فرخت کے معاملات میں   بیک وقت خریدار اور فروخت کنندہ کا کردار ادا کرنے   کی اجازت نہیں دی۔مذکورہ صورت  میں بھی سائل  اپنی ملک میں موجود ڈسپینسر(Dispenser) فروخت کرنا چاہتا ہے،اور اس کے  عوض   پانی کیلئے جمع  شدہ رقم(جس کی ادائیگی کیلئے  وہ پیسے دینے والے معاونین کی جانب سے وکیل ہے )  سے ادا کرنا چاہتا ہے،لہٰذا مذکورہ ممانعت کی وجہ سے یوں معاملہ کرنا درست نہ ہوگا۔

اس کی ایک جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ  چونکہ  مدرسہ بھائی کی ملک ہے،لہٰذا یہ جمع شدہ رقم  آپ بھائی کی تحویل میں دے دیں ، اور ان سے یہ کہیں کہ وہ آپ سے ڈسپینسر(Dispenser) خرید لیں  ۔یہ واضح رہے کہ   اس کی قیمت موجودہ بازاری قیمت سے زائد نہ لگائی جائے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 232):

وأما البيع فالواحد فيه إذا كان وليا يقوم بطرفي العقد، كالأب يشتري مال الصغير لنفسه، أو يبيع مال نفسه من الصغير، أو يبيع مال ابنه الصغير من ابنه الصغير، أو يشتري، إلا أنه إذا كان وكيلا لا يقوم بهما؛ لأن حقوق العقد مقتصرة على العاقد، فلا يصير كلام العاقد كلام الشخصين؛ ولأن حقوق البيع إذا كانت مقتصرة على العاقد وللبيع أحكام متضادة من التسليم والقبض والمطالبة، فلو تولى ‌طرفي ‌العقد لصار الشخص الواحد مطالبا ومطلوبا ومسلما ومتسلما وهذا ممتنع - والله عز وجل أعلم.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 251):

واعلم أن كون الواحد لا يتولى ‌طرفي ‌العقد في البيع مخصوص منه الأب يشتري مال ابنه لنفسه أو يبيع ماله منه، والوصي عند أبي حنيفة إذا اشترى لليتيم من نفسه أو لنفسه منه بشرطه المعروف في باب الوصية.

 حماد الدین قریشی عفی عنہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

03  /صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب