| 88253 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
کیا کسی کمپنی کا یہ اصول درست ہے کہ اگر ملازم مہینے میں تین مرتبہ دیر سے آئے تو اُس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے؟ حالانکہ ملازم نے نوکری کے لیے اس شرط پر دستخط کئے تھے۔ یہ شرط شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں برائے کرم ہمارے لئے کوئ منظم ضابطہ بنادیں۔ملازمین کو پابند بنانے کے لیے دیگرکون کون سی جائز ممکنہ تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کمپنی کے ملازمین کی شرعی حیثیت چونکہ اجیر خاص کی ہوتی ہے(یعنی وہ اجرت کے مستحق طے شدہ وقت میں ملازمت کی جگہ حاضر رہنےہی سے ہوتے ہیں)،اس لئےملازمین کے تاخیر سے آنے یا غیر حاضر رہنے پر کمپنی کی انتظامیہ کو صرف اتنی ہی اجرت کی کٹوتی کااختیار ہے جس قدران کی طرف سےکوتاہی پائی گئی ہو ،کوتاہی سے زیادہ اجرت کی کٹوتی مالی جرمانہ اور ظلم ہے،اس لیے جائز نہیں ۔یہ بھی واضح رہے کہ اس طرح کےاصول وضع کرنا جائز نہیں ،اگرچہ ملازمین کے اس پر دستخط موجود ہوں۔مذکورہ اصول کے مطابق جو اَب تک ناجائزکٹوتی کی جاچکی ہے ،اسے واپس کرنا ضروری ہے، ان پیسوں کا استعمال کمپنی کے لئے جائز نہیں، وہ ملازمین کی ملکیت ہے۔البتہ ملازمین کو وقت کا پابند بنانے کے لئے دیگرممکنہ جائز تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں،چند درج ذیل ہیں:
1۔ متعین وقت کے بعد پہنچنے کی صورت میں ناغہ شمار کرتے ہوئے ملازم کو واپس بھیج دیاجائے۔ عرفاً 5سے10منٹ کی تاخیر کی گنجائش دی جاتی ہے، لہٰذا اتنی تاخیر کی گنجائش دی جاسکتی ہے۔ (مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید 81002)
2۔تنخواہ کچھ کم مقرر کر لی جائے، اور کچھ زائد رقم بونس کے طور پر طے کرلی جائے اوریہ اصول بنا لیا جائے کہ جو ایک ماہ میں 3دن دس منٹ سے زیادہ تاخیر کرے گا وہ بونس کا حق دار نہیں سمجھا جائےگا۔
حوالہ جات
قال في الدر المختار (6 / 69):
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
رد المحتار ط الحلبي(4/ 61):
وأفاد في البزازية :أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به -إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة ؛إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى: لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 44(:
الحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
03 /صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


