03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویب سائٹ”NEXXEN” سے آن لائن کمائی کا حکم
88280سود اور جوے کے مسائلجوا اور غرر کے احکام

سوال

مفتیانِ کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک آن لائن ارننگ ویب سائٹ "NEXXEN" کا آن لائن پروگرام nends ppk.com)ہے،اس کے بارے میں شرعی حکم معلوم کرنا ہے۔ یہ پروگرام UK  کی ایک کمپنی کا ہے جو مختلف ایپس (جو پلے اسٹور پر موجود ہیں) کی تشہیر کے لیے کام کرتی ہے۔

کمپنی ان ایپس کی ڈاؤن لوڈنگ کے بدلے میں ڈالرز میں پیسے لیتی ہے اور پاکستان میں موجود افراد کو یہ کام کرنے کے لیے دیتی ہے، اور انہیں پاکستانی روپے میں ادائیگی کرتی ہے۔ اس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے لازمی طور پر "پیکیج" خریدنا پڑتا ہے، جو کہ 4,100 روپے سے شروع ہو کر 33,000 روپے تک  ہوتا ہے۔ پیکیج کے حساب سے کام کی مقدار اور روزانہ کی آمدن میں فرق آتا ہے۔مثال کے طور پرپہلا لیول (پیکیج 4,100 روپے)میں 5 ٹاسک ملتے ہیں اور روزانہ تقریباً 130 روپے کمائی ہوتی ہے۔دوسرے لیول میں 10 ٹاسک ملتے ہیں اور روزانہ تقریباً 370 روپے کمائی ہوتی ہے،اورتیسرے  لیول میں 20 ٹاسک کے بدلے میں روزانہ تقریباً 1,080 روپے کمائی ہوتی ہے۔گویا جتنا بڑا پیکیج خریدا جائے اتنا زیادہ کام اور زیادہ آمدن ملتی ہے، جو کہ بعد میں اپنے اکاؤنٹ میں "وِدڈرا" کی جاسکتی ہے۔براہِ کرم اس طریقۂ کار کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ  معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ  NEXXEN nends,ppk .comنامی ویب سائٹ  ملٹی‌لیول (pay‑to‑work) مہم پر مبنی ہے،جس میں داخل ہونے کے لیے پیکج خریدنا پھر ٹاسک کرکے   بعد میں منافع حاصل کرنا  ہوتا ہے ۔اس طریقہ کار میں   درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں۔

1۔مصنوعات کو ریٹنگ دینےکا کام اجارہ  یعنی ملازمت  کا کام ہے ،جس میں اشیاء کو 5اسٹار ریٹنگ  دینے پر اجرت دی جاتی ہے۔یہ ایسی منفعت نہیں جو اصلا مقصود ہو  اور شرعا اس کی اجرت لی جا سکے،بلکہ  اس کا استعمال جعل سازی کے لیے ہوتا ہے۔ مصنوعات کی ریٹنگ کا اصل مقصد صارف کی رائے کو ظاہر کرنا ہوتا ہے  کہ وہ اس چیز سے کس قدر مطمئن ہے، جبکہ اس  طرح جعلی ریٹنگ سے نئے صارفین کو دھوکہ دیا جاتا ہے

2-اشتہارات دیکھنے کے لیے یا ریٹنگ دینے کے لیے پیکج خریدنا     در حقیقت اجارہ کے حق کو خریدنا ہے   جو کہ جائز نہیں اور رشوت کے حکم میں آتا ہے۔

3-اس میں یہ بھی ہوتا ہے کہ مطلوبہ ہدف مکمل کرنے پر رقم مل جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہدف پورا نہ ہونے پر محنت کے باوجود کچھ بھی نہ ملے،جوکہ    قمار(جوا) ہے۔

ان تمام  خرابیوں کے پائے جانے کی وجہ  سے  اس ویب سائٹ میں  پیسہ لگانا اور اس کے ذریعے کمائی کرنا شرعا جائز نہیں ہے،لہذااس سے اجتناب کیجئے۔

حوالہ جات

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص569):

«(هي) لغة: ‌اسم ‌للاجرة، ‌وهو ‌ما ‌يستحق ‌على ‌عمل ‌الخير ولذا يدعى به، يقال: أعظم الله أجرك، وشرعا: (تمليك نفع).مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثياباأو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالاجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لانها منفعة غير مقصودة من العين.بزازية.» وقال عليه في الرد: (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية."

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام ... (ولا يستحق المشترك الأجر ‌حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال وحمال ودلال وملاح."

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

03/صفر المظفر /7144ھ      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب