03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین کی فروخت کے بعد انتقال کے خرچہ کا حکم
88274خرید و فروخت کے احکاممختلف مالی دستاویزات ، بانڈز اور چیک وغیرہ کا بیان

سوال

ایک شخص نے 8 مرلہ زمین تقریباً پانچ سال پہلے خریدی تھی، اُس وقت حکومت کی طرف سے انتقال کا خرچہ صرف مشتری کے ذمے تھا، مگر اُس نے انتقال نہیں کروایا۔ اب مشتری انتقال کروانا چاہتا ہے، جبکہ اس وقت حکومت کی طرف سے یہ خرچہ بائع اور مشتری دونوں سے وصول کیا جاتا ہے۔مشتری کہتا ہے کہ جو خرچہ حکومت کی طرف سے میرے ذمے ہے، وہ میں ادا کروں گا، جبکہ جو خرچہ بائع کے ذمے ہے، وہ بائع خود ادا کرے۔ مگر بائع کہتا ہے کہ آپ پورا خرچہ ادا کریں گے، کیونکہ تاخیر آپ کی طرف سے ہوئی۔ جب ہم نے زمین حوالہ کی، اُس وقت ہمارے ذمے کوئی خرچہ نہیں تھا، لہٰذا کوتاہی آپ کی ہے۔شریعت کی رُو سے اس کا حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ    زمین کے انتقال کے خرچہ کےمتعلق  عقد(زمین خریدنے ) کے وقت  جو حکومتی قانون تھا  اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔

چونکہ اس  وقت انتقال کا خرچہ صرف مشتری کے ذمے تھااور انتقال کی تاخیر بھی مشتری ہی کی طرف سے ہوئی، اس لیے اب کا نیا قانون اس پرانے عقد  پر نافذ نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس انتقال کے  تمام اخراجات صرف مشتری ہی کے ذمے شمار ہوں گے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 58):

 أجرة كتابة السندات والحجج وصكوك المبايعات تلزم المشتري لكن يلزم البائع تقرير البيع

والإشهاد عليه في المحكمة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 92):

 وعلى هذا أجرة الصكاك على من يأخذ الصك في عرفنا، وقيل يعتبر العرف جامع الفصولين.

        

   حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

03     /صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب