| 88529 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
اگر کسی کے پاس دو سو درہم سے کم نقدی ہو اور سال گزر جائے، توکیا اس پر زکوٰۃفرض ہے یا نہیں؟ نیز دو سو درہم کتنے پاکستانی روپے بنتے ہیں جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اموالِ زکوة(سونا،چاندی،نقد،مال تجارت)کامجموعہ اگرنصاب(دوسودرہم)سےکم ہوتو اس پر زکوة فرض نہیں ہوتی۔دوسودرہم 612.36گرام چاندی کےبرابرہوتے ہیں،جہاں تک قیمت کی بات ہے تووہ ہرروزتبدیل ہوتی رہتی ہے،ایک نہیں رہتی،آج 2025/09/01کودوسودرہموں کی قیمت ہماری ویب ریٹ کے بیان کردہ ریٹ کے مطابق 217500بنتی ہے۔مگرکل آئندہ ضروری نہیں کہ یہی ہو،تبدیل بھی ہوسکتی ہے،اس لیے زکاة کی تاریخ میں جو612.36 گرام چاندی کی قیمت ہوگی وہی معتبرہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار: (302/2، ط: دار الفکر)
"(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول".
النتف فی الفتاوی :
أما الزكاة ففي ثلاثة اشياء: الذهب والفضة ومتاع التجارة وهو ربع العشر ... وأما التي في المال احدها النصاب الكامل ونصاب الذهب عشرون مثقالا ، ونصاب الفضة مائتا درهم ، ونصاب متاع التجارة اذا بلغ قيمته مائتي درهم او عشرون مثقالا من الذهب.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


