| 88531 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص فوت ہوا ،اس نےوارثوں میں ایک بیوی اور8لڑکے چھوڑے ہیں،اس کا کل ترکہ دولاکھ ہے،میں نے اس کی اس طرح تقسیم کی ہے کہ بیوی کا حصہ 25000ہے اورہرلڑکے کاحصہ 21875 ہے،کیامیری یہ تقسیم درست ہے یا غلط؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حقوق متعلقہ بالترکہ (تجیز وتکفین،قرض اورثلث تک وصیت اگرکی ہو) کے نفاذ کے بعداگرورثہ یہی ہوں جو سوال مذکورہیں اوران کے علاوہ کوئی اوروارث نہ ہو تو بیوی کا حصہ دولاکھ میں25000ہے اورہرلڑکے کا 21875ہے،لہذا سائل کا ذکر کردہ جواب درست ہے۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...
(ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللہ تعالی :
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.......وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)
العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
9/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سفیر احمد ثاقب صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


