03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا
88320نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

کیا زنا کے خوف اور بے حیائی سے بچنے کے لئے ولی کی اجازت کے بغیر خفیہ نکاح کیا جاسکتا ہے، جبکہ بعد میں مناسب وقت پر گھر والوں کی اجازت کے ساتھ علی الاعلان نکاح کا ارادہ ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح والدین اور اولیاء بلکہ تمام قریبی رشتہ داروں کو شامل کرکے انجام دینا چاہیے،کیونکہ شادی کوئی عارضی اور وقتی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کا معاملہ ہے،اس لیے اس کی انجام دہی کے لیے غور وفکر،تجربہ اور بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں بالعموم ایک لڑکے اور لڑکی کے فیصلے میں نہیں پائی جاتیں،کیونکہ عموما لڑکا اور لڑکی محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کی بنیاد پر یہ اقدام کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ والدین کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جانے والے عدالتی نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان بہت سی ناچاقیوں اور اختلافات کا سبب بنتےہیں اورعمومانوبت طلاق یا قتل و قتال تک پہنچ جاتی ہے،جس کے نتیجے میں دونوں خاندان ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کےدشمن بن جاتے ہیں۔

خاص کر لڑکیوں کو تو اس حوالے سے بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور کسی بھی صورت والدین اور خاندان کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کے اقدام سے گریز کرنا چاہیے،کیونکہ ایسا کرنے کے بعد عموما لڑکی کو اس کے گھر اور خاندان والے قبول نہیں کرتے اور  اس طرح کے معاملات  میں عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ مدت بعد جب لڑکوں کی جنسی خواہش کو تسکین مل جاتی ہے تو پھر وہ  لڑکی سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے بیوی کی طرح بسانے پر آمادہ نہیں ہوتے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

........

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

09/صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب