03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیعِ عینہ کی متبادل صورت
88349جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص  کو قرض کی ضرورت ہے، وہ دوسرے شخص سے کوئی چیز  ادھار پر خریدتاہے  پھر  یہ شخص وہی چیز نقد رقم  پر  کم قیمت پر پہلے شخص کو  فروخت کر دیتا ہے، تاکہ مقصود حاصل ہو جائے۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟اگر درست نہیں، تو اس کی متبادل صورت کیا ہو سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  واضح رہے کہ کوئی چیز ادھار پر مہنگے داموں خرید کر واپس  بیچنے والے کو کم قیمت پر بطور  نقد فروخت   کرنا  فقہ کی اصطلاح میں "بیع عینہ " کہلاتا ہے،یہ  سود خوری کا ایک راستہ ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس  طرح معاملہ کرنے کو ذلت و رسوائی  کا سبب قرار دیا ہے، لہذایوں معاملہ کرنا شرعاًجائز  نہیں ۔

البتہ اگر کوئی شخص ادھار پر زیادہ قیمت میں کوئی چیز خریدے،  پھر واپس   فروخت کنندہ کو بیچنے کے بجائے کسی دوسرے آدمی کو کم قیمت پر فروخت کر کے نقد رقم حاصل کر لے ،تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (3/ 291 ط مع عون المعبود):

عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا ‌تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم.

العناية شرح الهداية (6/ 432)

ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع لان الثمن لم يدخل في ضمان البائع لعدم القبض، فإذا وصل إليه المبيع ووقعت المقاصة بين الثمنين بقي له فضل خمسمائة بلا عوض وهو ربا فلا يجوز۔

رد المحتار ط الحلبي» (5/ 326):

ثم قال في الفتح ما حاصله: ‌إن ‌الذي ‌يقع ‌في ‌قلبي ‌أنه ‌إن ‌فعلت ‌صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

16/صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب