03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی زندگی میں بیٹیوں کا اپنے حصہ سے دستبردار ہونے کا حکم
88286میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

گزارش ہے کہ ایک والد، جن کے پاس وافر مقدار میں مال و جائیداد موجود ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کو نقد رقم (ہر بیٹی کو 20 لاکھ روپے) دے دی، اور ان سے اسٹامپ پیپر پر ایک تحریری اقرار نامہ لیا کہ آئندہ کوئی بھی بیٹی اپنے والد کے مال و جائیداد میں کسی بھی قسم کا مطالبہ نہیں کرے گی، خواہ وہ مطالبہ عمومی ہو یا بطورِ میراث ہو۔

اس اقرار کے بعد والد صاحب نے اپنی باقی تمام مال و جائیداد، جو بیٹیوں کو دی گئی رقم کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی، اپنے بیٹوں کے نام منتقل کر دی اور وہ جائیداد عملاً بیٹوں کےقبضہ و  تصرف میں بھی آچکی ہے۔

تو کیا والد کی زندگی میں بیٹیوں کا اپنے حصہ (میراث ) سے دستبردار ہونا ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو کیا والد کے انتقال کے بعد بیٹیوں کا بطور وارث مطالبہ کرنا شرعاً درست ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی وارث اپنے مورث کے فوت ہونے سے پہلے میراث سے دستبرداری اختیار کرتا ہے تو اس کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس دستبرادی کے باوجود مورث کی وفات کے بعد اسے اپنا حصہ ملے گا، کیونکہ وراثت شریعت کی طرف سے ایک لازمی حق ہے، وارث کے نہ چاہنے کے باوجود بھی اس کا استحقاق باقی رہتا ہے۔البتہ ترکہ تقسیم ہوجائے تو اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ والد نے اپنی زندگی میں جائیداد بیٹوں کے نام منتقل کر کے ان کو قبضہ و تصرف بھی دے دیا ہے، اس لیے  وہ بیٹوں کی ملکیت بن چکی ہے اور بیٹیوں کو اس پر بطورِ میراث کوئی حق حاصل نہیں۔ البتہ اگر والد کے انتقال کے وقت ان کے نام پر کوئی اور مال یا جائیداد (مثلاً نقدی، ذاتی اشیاء یا دیگر املاک) موجود ہو، تو وہ شرعاً ترکہ شمار ہو گا، جس میں بیٹیاں بطورِ وارث اپنا حصہ طلب کرنے کی مکمل حق دار ہوں گی۔

حوالہ جات

تکملة رد المحتار: (505/7، ط:دارالفکر، بیروت)

الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.

غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ و النظائر: (354/3)

"لَوْ قَال الْوَارِث: تَرکْت حَقِّی لَمْ یَبْطُلْ حَقّہُ؛ إذْ الْمِلْک لَا یَبْطل بِالتَّرْک(الأشباہ)قولہ: لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملک أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لأنہ لازم لا یترک بالترک بل إن کان عینا فلا بد من التملیک وإن کان دینا فلا بد من الإبراء".

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04  /صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب