| 88287 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
اگر والد نے جائیداد بیٹوں کے نام پرصرف منتقل کی ہو، لیکن ان کو اس پر قبضہ و تصرف نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں اس جائیداد کا شرعی حکم کیا ہو گا؟ اور اگر والد نے جائیداد بیٹوں کے نام منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل تصرف اور قبضے کا اختیار بھی دے دیا ہو، تو اس صورت کا شرعی حکم کیا ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جائیداد بیٹوں کے نام محض منتقل کرنے یا رجسٹر ی کروانے سے ان کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، جب تک ان کو مکمل قبضہ و تصرف نہ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر والد نے بیٹوں کے نام جائیداد کی صرف رجسٹری کروائی ہو اور مکمل تصرف و قبضہ نہ دیا ہو، تو وہ والد ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور والد کے انتقال کے بعد وہ تمام ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ تاہم اگر بیٹوں کو مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار بھی دے دیا ہو اور خود کا کوئی عمل دخل باقی نہ رکھا ہو، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل ہو چکا سمجھا جائے گا اور وہ جائیداد بیٹوں کی ملکیت قرار پائے گی۔ ایسی صورت میں بیٹوں کی رضامندی کے بغیر والد کے لیے کسی قسم کے تصرف کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس میں ورثاء کا کوئی حصہ شمار ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية : (4/377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاء هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.
شرح المجلۃ (1/264، مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي".
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04 /صفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


