03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا  جائیدادکی محض نام پر منتقل کرنے سے  ملکیت ثابت ہوجاتی ہے؟
88287ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

اگر والد نے جائیداد بیٹوں کے نام پرصرف منتقل کی ہو، لیکن ان کو اس پر قبضہ و تصرف نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں اس جائیداد کا شرعی حکم کیا ہو گا؟ اور اگر والد نے جائیداد بیٹوں کے نام منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل تصرف اور قبضے کا اختیار بھی دے دیا ہو، تو اس صورت کا شرعی حکم کیا ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جائیداد بیٹوں کے نام محض منتقل کرنے یا رجسٹر ی کروانے سے ان کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، جب تک ان کو مکمل قبضہ و تصرف نہ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر والد نے بیٹوں کے نام جائیداد کی صرف رجسٹری کروائی ہو اور مکمل تصرف و قبضہ نہ دیا ہو، تو وہ والد ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور والد کے انتقال کے بعد وہ تمام ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ تاہم اگر بیٹوں کو مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار بھی دے دیا ہو اور خود کا کوئی عمل دخل باقی نہ رکھا ہو، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل ہو چکا سمجھا جائے گا اور وہ جائیداد بیٹوں کی ملکیت قرار پائے گی۔ ایسی صورت میں بیٹوں کی رضامندی کے بغیر والد کے لیے کسی قسم کے تصرف کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس میں ورثاء کا کوئی حصہ شمار ہوگا۔

 

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية : (4/377):

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاء هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.

شرح المجلۃ (1/264،  مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)

"لایجوز لأحد  أن یاخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي".

  حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04  /صفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب