| 88279 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے دوسرے شخص کو کہا کہ میں اپنی بیٹی رشتے میں آپ کو دوں گا،کچھ عرصے بعد آپس میں جھگڑا ہوا،تو بندے نے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کردیا،کیا ابھی اس بندے پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ دے ،جبکہ نہ نکاح ہوا ،نہ بات پکی ہوئی تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ محض زبانی ارادے کے اظہار کی بنیاد پر والد پر اپنی بیٹی کا رشتہ دینا لازم نہیں،خصوصا ً اگر لڑکی بالغہ ہو، تو اس کی رضامندی کے بغیر والد کی جانب سے رشتہ دینے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 287):
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
05/صفر /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


