| 88338 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میری اور بیوی کی شادی گھر والوں اور ہماری اپنی خود کی پسند سے ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہمارے درمیان معمولی باتوں پر جھگڑے ہونے لگے۔ ہر بار کسی چھوٹی سی بات پر بحث ہوتی، تو میری بیوی ناراض ہو کر میکے چلی جاتی، اور میں چند دن بعد اُس سے رابطہ کرکے مناتا تو وہ واپس آجاتی۔ ان تمام جھگڑوں میں میں نے کبھی اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ نرمی اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ہمارا ایک بیٹا ہے جس کی عمر اب تقریباً چار سال ہونے والی ہے۔ میں اپنی بیوی اور بچے کے تمام شرعی اور قانونی حقوق ادا کر رہا تھا، جن میں رہائش، کپڑے، کھانے پینے وغیرہ کا مکمل انتظام شامل تھا۔میری بیوی کو مجھ سے یہ شکایت رہتی تھی کہ میں اُسے وقت نہیں دیتا۔ اگر کبھی کسی وجہ سے جھگڑا ہو جاتا اور میں تھوڑے وقت کے لیے خاموش ہو جاتا یا بات چیت بند کر دیتا تو وہ اس کو ذہنی اذیت تصور کرتی، جو کہ ایک بے بنیاد الزام ہے۔ایسی ہی ایک لڑائی کے بعد جب بات کچھ زیادہ بڑھ گئی تو وہ اپنے گھر والوں کے پاس میکے چلی گئی۔ تقریباً ایک ماہ بعد اُس کے گھر والوں نے مجھے واٹس ایپ کے ذریعے طلاق نامہ بھیجا اور دباؤ ڈالنے لگے کہ میں اس پر دستخط کر دوں۔ میں نے واضح طور پر انکار کیا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا، کیونکہ ہمارے درمیان ایک بچے کا بھی معاملہ ہے۔اُن کے بار بار اصرار اور دباؤ کے بعد، میں نے یہ جواب دیا کہ میں طلاق نہیں دوں گا، اگر آپ لوگ علیحدگی چاہتے ہیں تو عدالت سے رجوع کریں۔بعد ازاں، میں نے عدالت میں حقوقِ زوجیت (Conjugal Rights) کا دعویٰ دائر کیا تاکہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ میں گھر بسانا چاہتا ہوں۔ میں نے عدالت سے گزارش کی کہ میری بیوی کو ہدایت دی جائے کہ وہ میرا گھر آباد کرے اور معمولی باتوں پر رشتے کو خراب نہ کرے۔تاہم، میری بیوی نے اس کے جواب میں عدالت میں خلع کا کیس دائر کر دیا اور یکطرفہ خلع حاصل کر لی، جس میں میری کوئی رضامندی شامل نہیں تھی، اور نہ ہی میں نے اس پر دستخط کیے۔ میں نے جج صاحب کے سامنے بھی واضح طور پر کہا کہ یہ خلع میری رضامندی کے بغیر ہے،اور اس بات کی گواہی میری اور بیوی دونوں کی وکیل نے بھی دی۔خلع کے عدالتی فیصلے میں میرے حقِ مہر کی واپسی کا کوئی حکم بھی شامل نہیں تھا۔ کیا یہ خلع شرعی طور پر درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)اگر سوال میں ذکرکردہ تفصیلات درست ہیں تو چونکہ فسخ نکاح کا کوئی سبب نہیں پایا گیا کہ جس کی بنیاد پر عدالت یا جج کو یک طرفہ طور پر فسخ نکاح کا حق حاصل ہو، لہٰذا مذکورہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگی اور لڑکا لڑکی دونوں کا آپس میں نکاح برقرار رہے گا،اس لیے لڑکی کے لیے خود کو مطلقہ سمجھ کر کسی اور جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔
(2)یاد رہے کہ نکاح ہوجانے کے بعد عورت پر شوہر کے پاس رہنا لازم ہے ،بلا عذر الگ ہونا حرام اور قابل تعزیر جرم ہے،عورت کے گھر والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی عورت کو اپنے پاس بٹھائے رکھیں ،اس لیے کہ ابتداءًعقد نکاح کرنے میں عورت پر جبر نہیں،لیکن اگر نکاح کرلے تو دیگر عقود کی طرح عقد نکاح میں بھی عقد کے تقاضوں پر عمل کرنے میں اختیار نہیں بلکہ جبر ہی ہوتا ہے،لہٰذامذکورہ صورت میں اگر عورت بغیر کسی عذر کےاپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں ہے تو خاندان کے افراد کو چاہیے کہ وہ اسے سمجھائیں اور بلاعذر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی خواتین سے متعلق وارد ہونے والی احادیث بھی ان کوبتلائیں،مثلاًایک حدیث کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے،یعنی جنت میں داخل ہونا تو دور کی بات ہے،جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی،وغیرہ۔لہٰذالڑکی کے گھر والوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنی بیٹی اس کے شوہر کے گھر بھیج دیں اور لڑکے کو چاہیے کہ لڑکی کی معقول شکایات کا ازالہ کرنے کی پوری کوشش کرے۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 316)
عن ثوبان عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".
بدائع الصنائع : (315/4)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
12.صفر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


