| 88337 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک ریستوران(Restaurant) میں بطور امام تعینات ہوں۔ ہمارے ہاں یہ ضابطہ رائج ہے کہ اگر کوئی برتن یا دیگر سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو ماہ کے آخر میں تمام ویٹرز (خدمت کاروں) سے اس نقصان کی تلافی اجتماعی طور پر وصول کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ طریقہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے:
1۔بے قصور ملازمین پر نقصان ڈالنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
2۔ شریعت میں کسی پر مالی ذمہ داری صرف اسی صورت میں عائد ہوتی ہے جب اس کی ذاتی کوتاہی یا غلطی ثابت ہو
لہٰذا، میں درج ذیل شرعی حل تجویز کرنا چاہتا ہوں: اگر کسی مخصوص ویٹر کی غلطی یا لاپروائی ثابت ہو تو صرف وہی شخص نقصان کی تلافی کرے۔اگر نقصان کسی ایک کی غلطی سے ثابت نہ ہو توریسٹورینٹ ایک ’’چیریٹی/ایمرجنسی فنڈ‘‘قائم کرے جس میں ہر ماہ کچھ رقم جمع کی جائے۔اس فنڈ سے ہونے والے نقصانات کو پورا کیا جائے۔بچت ہونے پر 50% صدقہ کر دیا جائے اور 50% ملازمین میں انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے۔ برائے مہربانی، مندرجہ ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
کیا اس سلسلے میں کوئی اور بہتر شرعی حل موجود ہے؟ نیز، برائے کرم ریسٹورینٹ کے لیے ایک واضح اور عملی "شرعی ضابطہ کار" بھی فراہم فرمائیں جس پر عمل کیا جا سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چیریٹی فنڈیا ایمرجینسی فنڈکا ایک جائز متبادل وقف کا نظام ہوسکتا ہے جس میں تمام ملازمین(Waiters) اور کمپنی باہم احسان اور ہمدردی کی بناء پر ایک وقف فنڈ قائم کریں جس کا مقصد یہ ہو کہ ملازمین میں سے کسی کو تاوان کی ادائیگی کی ضرورت ہوگی تو اس سے ادا ئیگی کی جائے گی۔ اور ماہانہ بنیادوں پر تمام شرکاء کچھ متعین حصہ اس میں ڈالیں گے۔اس صورت پر درج ذیل شرائط کے ساتھ عمل کیا جاسکتا ہے:
- ۔فنڈ کا مقصد درست ہو،یعنی تمام ملازمین جمع ہو کر باہمی تعاون کے لئے وقف فنڈ/پول قائم کر سکتے ہیں اس میں ان کے ساتھ کمپنی بھی شخص قانونی کے طور پر شامل ہوسکتی ہے۔
- ۔وقف کے اصولوں کی پیروی لازم ہےاور ایک منتظمہ کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے جو انتظامات وغیرہ دیکھے۔یہ بھی ضروری ہےکہ وقف فنڈ کسی مستند اور ماہر عالم دین کے زیر نگرانی کام کرے۔
- ۔وقف قائم ہونے کے بعد فنڈ میں رقم چندے کی نیت سے بھی جمع کرائی جاسکتی ہے،رقم دینے کے بعد وہ وقف کی ملکیت بن جائے گی۔
- ۔ اراکین جو رقم وقف یا چندےکی نیت سے جمع کرائیں گے اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ جب کوئی چیز وقف کی ملکیت بن گئی تو واپسی کا مطالبہ نہیں ہوسکتا ۔
- ۔وقف فنڈ کے موقوف علیہم (Beneficiaries)صرف عملا چندہ دینے والے نہیں ہوں گے، بلکہ تمام مستحق ممبران اس سے استفادہ کرسکیں گے ،خواہ وہ چندہ دیں یا کسی مجبوری کی وجہ سے چندہ نہ دے سکیں۔
- ۔چندہ دینے والے ممبران کے سامنے تحریری طور پر یہ بات واضح کی جائےکہ انہیں چندہ دہندہ ہونے کی بنیاد پر وقف سے کسی اختصاصی یا ترجیحی دعویٰ (Claim) کرنے کا حق نہیں ہوگا بلکہ وقف سے استفادہ کے لئے ان کا انتخاب(Selection) قواعد و ضوابط کا پابند ہوگا،لیکن اگر قواعد و ضوابط کے مطابق بیک وقت ایک سے زائد ملازمین کا استحقاق ہو اور وقف فنڈ سے سب کا تعاون ممکن نہ ہو تو وقف فنڈ سے استفادے کا انتخاب خالصتا منتظمہ کمیٹی کی صوابدید پر ہوگا ۔
- ۔اگر وقف فنڈ میں گنجائش نہ ہو تو کسی بھی درجے میں منتظمین کی یہ ذمہ داری نہ ہو کہ وہ موقوف علیھم کے ساتھ تعاون کریں ،یا ان کے لئے قرضے وصول کریں ،البتہ اگر منتظمین اپنی صوابدید پر بوقت ضرورت وقف فنڈ کے لئے قرض حاصل کریں اور بعد میں چندہ کی رقم سے ،یا کسی دوسرے جائز ذریعے سے اس کی ادائیگی کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
- ۔ انتظامی معاملات کے لیے کچھ نہ کچھ مقدار بھی طے کی جاسکتی ہے۔(مستفاداز تبویب جامعۃ الرشید: 84957)
یہ واضح رہے کہ یہ ایک بنیادی خاکہ ہے ۔تفصیلات کے ساتھ اس نظام کو قابل عمل بنانے کیلئے مقامی بنیادوں پر شرعی رہنمائیکی ضرورت ہے۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية(41/ 194):
وقول محمد إنه لا يجوز وقف المنقولات لكن إن جرى التعامل بوقف شيء من المنقولات جاز وقفه. قال في الاختيار: والفتوى على قول محمد لحاجة الناس وتعاملهم بذلك، كالمصاحف والكتب والسلاح.
وبناء على ذلك فحين جرى التعامل في العصور اللاحقة بوقف النقود وجدت الفتوى بدخول النقود تحت قول محمد بجواز وقف ما جرى التعامل بوقفه. قال في الدر المختار: بل ورد الأمر للقضاة بالحكم به كما في معروضات أبي السعود.ووجه الانتفاع بها مع بقاء عينها هو عندهم بإقراضها، وإذا رد مثلها جرى إقراضه أيضا، وهكذا، قال ابن عابدين: لما كانت الدراهم والدنانير لا تتعين بالتعيين، يكون بدلها قائما مقامها لعدم تعينها.
فتح القدير للكمال (6/ 239):
ولو جعل دارا له بمكة سكنى لحاج بيت الله والمعتمرين، أو جعل داره في غير مكة سكنى للمساكين، أو جعلها في ثغر من الثغور سكنى للغزاة والمرابطين. أو جعل غلة أرضه للغزاة في سبيل الله تعالى ودفع ذلك إلى وال يقوم عليه فهو جائز، ولا رجوع فيه.
البناية شرح الهداية(10/ 210):
والهبة بشرط العوض صحيح، والشرط صحيح حتى يكون هبة ابتداء بيعا انتهاء.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(6/ 200):
فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع، والواقف مالك له أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية، وله أن يخص صنفا من الفقراء دون صنف، وإن كان الوضع في كلهم قربة.
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
11 /صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


