03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سسر کا بہو کو چھونے سے حرمتِ مصاہرت کا حکم
88281نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

سائل سے معلومات کے بعد مسئلہ کی وضاحت:

میرا نام......... ہے۔ میری شادی سن 2021ء میں ہوئی۔ اُس وقت میری عمر صرف 17 سال تھی، جبکہ میرے شوہر کی عمر 38 سال تھا۔ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے، مگر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکے تھےاور ان سے کوئی اولاد نہیں تھی۔میری شادی کا فیصلہ میرے والد اور سسر نے آپس کے مشورے سے بند کمرے میں کیا اور جب وہ باہر نکلے، تو میرے کزن ....... نے صرف اتنا پوچھا: ’’کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو؟‘‘ میں نے کوئی بات زبان سے نہ کی، صرف سر ہلا دیا۔ اس کے بعد نکاح کر دیا گیا اور میں اپنے شوہر کے گھر رخصت ہو گئی۔

شادی کے ابتدائی چند دن معمول کے مطابق گزرے، لیکن پھر میرے سسر نے میرے ساتھ نازیبا حرکات کرنا شروع کر دیں۔ پہلے پہل میرے جسم کو چھونے کی کوشش کی، جس پر میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ اس کے بعد اس نے میرے ساتھ سختی کی، مارا پیٹا، جس کی وجہ سے میرا پہلا حمل بھی ضائع ہو گیا۔

اس کے بعد مختلف مواقع پر (چاہے میں چولہا جلا رہی ہوں، کپڑے دھو رہی ہوں، کچن میں یا کمرے میں ہوں)جب بھی وہ مجھے اکیلا پاتے، میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتاتھا ،میرےساتھ  زبردستی کر تاتھا، میرے ہونٹ چومتاتھا ،مجھے پیچھے سے پکڑتاتھا،   میرے جسم کو پیچھے سے چھوتا تھا، اپنی شرمگاہ کو میرے دُبر  پر رگڑتا تھااور فحش حرکات کرتا رہتا تھا،ہر بار  مجھے اس کی جسم کی گرمی محسوس ہوئی ہے، میں بار بار اُن کی ناجائز حرکات کو جھٹکتی رہی، مگر وہ باز نہ آئے۔

ایک مرتبہ انہوں نے میرے سینے کو کپڑوں کے اوپر سے دبایا۔ ایک دن جب میں کپڑے دھو رہی تھی ، صرف قمیص پہن رکھی تھی ،مزید اندر کچھ نہ پہنا تھا، انہوں نے پیچھے سے آ کر مجھے پکڑا اورگریبان میں ہاتھ ڈال کرشہوت سے میرے پستانوں کو دبایا۔کئی بار انہوں نے موبائل پر فحش فلمیں چلا کر مجھے بلایا، مگر میں انکار کرتی رہی۔

ایک بار، جب میں گھر پر اکیلی تھی، انہوں نے پستول نکال کر دھمکایا اور زبردستی کرنے کی کوشش کی،مجھے شلوار اتارنے کو کہ رہے تھے،مگر عین  اُس وقت میرے شوہر کا کزن  موقع پر آ گیا، جس کی وجہ سے میں بچ گئی، اگر وہ نہ آتا، تو وہ مجھ سے بدفعلی کر چکے ہوتے۔ایک مرتبہ انہوں نے مجھے کمرے میں اکیلی پایا ،تو پستول کی زورپر  کپڑوں سمیت مجھے اپنے اوپر بٹھایا،اپنا ذکرکپڑوں کے اوپر اوپر سے  میرے  شرمگاہ پر رگڑتا رہا یہاں تک  کہ اس کا انزال ہوا اور  اُس کا ناپاک مادّہ میرے جسم پرآلگا۔

میں نے اپنی ساس کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’میں جانتی ہوں میرے شوہر آپ کے ساتھ غلط حرکتیں کرتے ہیں، لیکن میں مجبور ہوں، کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘

میں نے اپنے شوہر کو بھی یہ سب کچھ بتایا، اس نے بھی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’میں مانتا ہوں ابو آپ کے ساتھ غلط حرکتیں کرتا ہے،ابو نے یہی حرکتیں پہلی بیوی کے ساتھ بھی کی تھیں، جس کی وجہ سے میں نے طلاق دی، لیکن اب میں ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘وہ نہ مجھے طلاق دیتا ہے، نہ الگ رہائش دیتا ہے اور نہ ہی اپنے والد کے خلاف بولتا ہے۔

جب سب طرف سے مایوس ہو گئی تو میں نے اپنے گھر(میکے) والوں کو تمام حقیقت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صبر کا مشورہ دیا اور کہا کہ جرگہ بلائیں  گے۔ جرگے میں میرے سسر نے ہر بات سے انکار کیا اور کہا کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔ جب انہیں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کو کہا گیا، تو انہوں نے انکار کر دیا۔ جبکہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کو تیار تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بہوکو شہوت  سےایسے چھوئےکہ اس کے اور بہو کے جسم کے درمیان کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو یا حائل تو ہو، لیکن  چھونے سے بدن کی گرمی محسوس ہو  یا جسم کے ایسے حصے کو  چھوئے یا بوسہ دے، جہاں چھونے میں شہوت غالب ہو تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اور بہو اپنے شوہر پر حرام ہوجا تی ہے۔ اسی طرح فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق ہونٹوں پر بوسہ دینے کی صورت میں مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،نیز حرمت مصاہرت ثابت ہونے میں جانبین سے شہوت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ اگر ایک طرف سےبھی شہوت موجود ہوتو حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی مذکورہ امور پیش آئے ہیں، یعنی سسر نے آپ (بہو )کو بلا کسی رکاوٹ کے شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا ہے، ہونٹ چومے ہیں اور شوہر بھی ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے، تو اس صورت میں آپ اور آپ کے شوہر کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے ۔اس کے نتیجے میں آپ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوچکی ہیں اور آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائزنہیں ہے۔ چنانچہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا واجب ہے۔اسی کے ساتھ، شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ وہ آپ کو زبان سے الفاظِ متارکت (مثلاً:  "میں نے آپ کو چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کا راستہ چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کو طلاق دی" وغیرہ) کہہ کر علیحدہ کرے۔

حوالہ جات

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (3/ 222):

«هذا وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها: لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه.

ثم رأيت عن أبي يوسف أنه ذكر في الأمالي ما يفيد ذلك، قال: امرأة قبلت ابن زوجها وقالت كان عن شهوة، إن كذبها الزوج لا يفرق بينهما، ولو صدقها وقعت الفرقة.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 37):

«(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم قاله الحدادي وفي الفتح يتراءى إلحاق الخدين بالفم،....‌لأنه ‌ينكر ‌ثبوت ‌الحرمة ‌والقول ‌للمنكر، وهذا ذكره في الذخيرة في المس لا في التقبيل كما فعل الشارح فإنه مخالف لما مشى عليه المصنف أو لا من أنه في التقبيل يفتى بالحرمة ما لم يظهر عدم الشهوة،»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 35):

«قال في الذخيرة، وإذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال لم يكن عن شهوة ذكر الصدر الشهيد أنه في القبلة يفتى بالحرمة، ما لم يتبين أنه بلا شهوة وفي المس والنظر لا إلا إن تبين أنه بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس والنظر،... ومنهم من فصل في القبلة فقال إن كانت على الفم يفتى بالحرمة، ولا يصدق أنه بلا شهوة، وإن كانت على الرأس أو الذقن أو الخد فلا إلا إذا تبين أنه بشهوة وكان الإمام ظهير الدين يفتي بالحرمة في القبلة مطلقا، ويقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة .»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 275):

«ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس ‌حرارة ‌الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 32):

«(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: ‌أراد ‌بحرمة ‌المصاهرة ‌الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 133):

«(قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة»

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 73):

«‌وعلمت ‌أن ‌المرأة ‌كالقاضي ‌لا ‌يحل ‌لها ‌أن ‌تمكنه من نفسها إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه،»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 5/ صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب