| 88350 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم نے اپنے والد کی میراث سے متعلق فتویٰ حاصل کیا تھا، جس کا فتویٰ نمبر 64/86438 ہے۔ آپ کے اس فتویٰ سے متعلق ہمیں مزید وضاحتی سوالات کے جوابات درکار ہیں۔ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔
سوال نمبر 1:
والد صاحب کا انتقال مارچ 2021 میں ہوا،توپوچھنایہ ہےکہ وراثت کی تقسیم کا اعتبار والد صاحب کے انتقال کی تاریخ سے کیا جائے گا یا جس دن ورثاء کے درمیان وراثت تقسیم کی جائے اُس دن سے؟
سوال نمبر 2:
والد صاحب کے انتقال کے بعد ایک گاڑی فروخت کی گئی، کیا اس کی قیمت بھی وراثت میں شامل ہوگی؟
سوال نمبر 3:
والد کے انتقال کے وقت اکاؤنٹ میں جو رقم موجود تھی اور جس سے گھر کے اخراجات ادا کیے جاتے تھے، کیا وہ رقم بھی وراثت میں شامل ہوگی؟ آیا اس میں دادی (مرحوم والد کی والدہ) کا حصہ ہے؟
سوال نمبر 4:
والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کا کاروبار بڑے بیٹے نے سنبھالا، اب اس کاروبار سے خریدی گئی اشیاء کا کیا حکم ہے؟
سوال نمبر 5:
والد صاحب کے آفس، فرنیچر وغیرہ کا کیا حکم ہے جس کو بڑا بیٹا استعمال کر رہا ہے؟
سوال نمبر 6:
والد کے انتقال کے بعد جو چیزیں والد کے کاروبار سے خریدی گئی ہیں (مثلاً گھر کی ضروری اشیاء
اور گاڑی)، کیا ان میں بھی دادی کا حصہ شامل ہے؟ جبکہ دادی کا بعد میں انتقال ہو چکا ہے؟
سوال نمبر 7:
ہمارے والد نے چچا کو ایک گھر رہنے کے لیے دیا ہوا تھا جو والد صاحب کی ملکیت ہے۔ آیا ہم اس گھر کا کرایہ چچاسےلے سکتے ہیں؟ چچا پچھلے 18 سال سے وہاں مقیم ہیں، جن میں والد کی وفات کے بعد 4 سال بھی شامل ہیں۔
سوال نمبر 8:
وراثت کی تقسیم میں چچا حق دار نہیں، آیا چچا کو جواب دینے کی ضرورت ہے؟
سوال نمبر 9:
دادی کا انتقال والد صاحب کے انتقال کے بعد ہوا ہے، کیا چچا کواس صورت میں وراثت کی مالی تفصیلات جاننے کا حق حاصل ہے؟
سوال نمبر 10:
ہم ورثاء باہمی رضامندی سےجامعہ کے فتویٰ کے مطابق میراث کی تقسیم کر رہے ہیں، کیا چچا کو تفصیل جاننے کا حق حاصل ہے، جبکہ وہ وراثت میں شامل نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔وراثت کی تقسیم کا شرعی اعتبار وفات کی تاریخ سے ہوتا ہے، نہ کہ تقسیم کے دن سے۔ یعنی جس وقت والد کا انتقال ہوا، اسی دن ان کی تمام جائیداد، مال، حسابات، کاروبار وغیرہ شرعی طور پر ان کے ورثاء میں منتقل ہو گئے، اور اسی وقت سے ہر وارث کا حق متعین ہو گیا۔
(2)۔جی ہاں، اگر وہ گاڑی والد صاحب کی ملکیت تھی اور ان کے انتقال کے بعد فروخت کی گئی، تو اس کی مکمل قیمت وراثت کا حصہ ہوگی اور تمام شرعی ورثاء میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
(3)۔جی ہاں، والد صاحب کے ذاتی اکاؤنٹ میں موجود رقم بھی وراثت میں شامل ہے، اور اس میں تمام شرعی ورثاء کے حصے ہوں گے، جن میں والدہ (یعنی دادی) بھی شامل تھیں کیونکہ وہ اس وقت زندہ
تھیں، دادی کے انتقال کے بعد ان کا حصہ ان کے وارثین کو منتقل ہوا۔
(4)۔اگر یہ کاروبار والد صاحب کی ملکیت تھا، تو ان کے انتقال کے بعد وہ کاروبار تمام ورثاءکی مشترکہ ملکیت بن گیا۔لہٰذا کاروبار سے جو منافع یا اشیاء خریدی گئیں وہ بھی تمام ورثاء کا مشترکہ حق ہے۔ بڑے بیٹے کو امانت داری کے ساتھ کاروبار چلانا تھا، اگر اس سے کوئی اشیاء خریدی گئی ہیں (جیسے گاڑی، گھر کی اشیاء وغیرہ) تو وہ بھی تمام ورثاء کے حق میں آئیں گی، اور ان میں دادی کا حصہ بھی شامل تھا کیونکہ وہ اس وقت زندہ تھیں۔
(5)۔آفس، فرنیچر اور دیگر اثاثے جو والد صاحب کے تھے، ان کی وفات کے بعد وہ تمام اشیاء وراثت میں داخل ہو گئیں، اور ان پر تمام شرعی ورثاء کا حق ہے۔بڑا بیٹا ان کوسب کی رضامندی سے استعمال تو کر سکتا ہے، مگر یہ چیزیں اس کی ذاتی ملکیت نہیں بن ہیں۔لہذاان کی قیمت کا حساب لگا کر سب ورثاء میں ان کے حصوں کے حساب سے تقسیم کرنا ضروری ہے۔
(6)۔جی ہاں، اگر یہ اشیاء والد صاحب کے کاروبار (جو اب تمام ورثاء کی ملکیت تھا) سے خریدی گئیں تو وہ اشیاء بھی وراثت میں شامل ہوں گی اور ان میں دادی کا حصہ بھی تھا (جب تک وہ زندہ تھیں)۔ دادی کے انتقال کے بعد ان کا حصہ ان کے وارثین کو منتقل ہوا۔
(7)۔اگر وہ گھر والد صاحب کی ذاتی ملکیت تھا اور انہوں نے اپنے بھائی (چچا) کو عارضی طور پر رہائش کے لیے دیا تھا (ملکیت نہیں دی)، تو والد کی وفات کے بعد یہ گھر بھی وراثت میں شامل ہو گیا۔لہٰذا اب چچا اگر وہاں رہائش پذیر ہیں تو تمام ورثاء کی اجازت کے بغیر ان کا قیام بغیر کرایہ کے شرعی طور پر درست نہیں۔آپ چچا سے ان چار سالوں کا کرایہ مانگ سکتے ہیں جو والد کی وفات کے بعد گزرے، بشرطیکہ یہ طے ہو کہ وہ کرایہ دار کے طور پر مقیم تھے نہ کہ مالک یا مستقل قابض کے طور پر۔
(8)۔چچا براہِ راست آپ کے والد کے وارث نہیں ہیں، اس لیے والد کی اصل میراث میں ان کا کوئی حق نہیں ہے۔ البتہ چونکہ والد کی والدہ (یعنی آپ کی دادی) آپ کے والد کے انتقال کے وقت زندہ تھیں اور انہیں شرعی حصہ ملا، اور بعد میں ان کا انتقال ہو گیا، تودادی کے اس حصے میں چچا وارث ہیں،لہٰذا اگر چچا وراثت سے متعلق سوال کریں تو انہیں دادی کے حصے کی حد تک ادب و احترام کے ساتھ وضاحت دینا مناسب ہے۔والد کی پوری وراثت کی تفصیل دینا ضروری نہیں، صرف دادی کے حصے اور اس کی تقسیم کے بارے میں بتانا کافی ہے۔
(9)۔ دادی کا انتقال چونکہ آپ کے والد کے بعد ہواہےتووہ اپنے بیٹے کی وارث تھی اوروہی وراثت ان کے انتقال کےبعد آگےان کے بیٹےیعنی آپ کے چچاکی طرف منتقل ہوئی ہے۔لہٰذا چچا کو دادی کے حصے تک محدود معلومات جاننے کا حق حاصل ہے، تاکہ وہ اپنا حصہ لے سکیں،لیکن کل میراث میں وہ دخل نہیں دے سکتے۔
(10)۔چچا براہ راست تووالد کی وراثت میں شریک نہیں (یعنی ان کے وارث نہیں) لہذاانہیں مکمل تفصیل جاننے کا شرعی حق حاصل نہیں ہے۔البتہ دادی کے انتقال کے بعد چونکہ وہ اپنے حصے کی حد تک حقدارہیں لہذا صرف دادی کے حصے کی حد تک انہیں تفصیل جاننے کا حق حاصل ہے،لہذا کل میراث کی تفصیلات ان کودیناورثہ پرلازم نہیں۔
حوالہ جات
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند.
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم. (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
بدائع الصنائع (7/ 57):
الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته.
قال اللہ تعالی :
وَ لِاَبَوَیہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِن کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ.......[النساء: 11]
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... [النساء: 11]
قال في الفتاوى الهندية:
إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
قال الله تعالیٰ فی القرآن المجید:
{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة : 188]
السنن الكبرى للبيهقي (6/ 166)
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/02/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


