03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا شوہر بیوی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے؟
88355زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میری ہمشیرہ کی ملکیت میں تقریباً ساڑھے چار تولے سونا،دو چاندی کی انگوٹھیاں  اور  نقدی کی صورت میں کچھ رقم بھی ہے تو کیا  وہ  زکوٰۃ کی مقدار کی بقدر پیسے اپنے شوہر سے لے گی یا اپنے سونا میں سے کچھ بیچ کر زکوٰۃ ادا کرے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوٰۃ اُسی شخص پر لازم ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہو، اگر بیوی نصاب کی مالک ہے تو اس کی زکوۃ اُسی  پر لازم ہو گی، شوہر پر لازم نہیں ہو گی۔تاہم اگرشوہر ہی بیوی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر  دے تو یہ اس کا حسنِ سلوک اور احسان ہوگا، جس پر اس کو اجر ملے گا۔ لیکن واضح رہے  کہ شوہر کے لئے بیوی کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلےاس  کے علم میں لانا ضروری ہے،تاکہ بیوی زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کر لے ،کیونکہ نیت کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی یا پہلے سےبیوی اجازت دے دے کہ میری طرف سے زکوٰۃ ادا کردیں تو عین موقع پر بتائے بغیر بھی زکوٰۃ دینے سے ادا ہوجائے گی۔

حوالہ جات

فتاوی تاتارخانیہ (، ج:2، ص:217، ط:ادارۃ القرآن):

"الزكوة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول.

فتاوی ہندیہ (ج:1، ص:171، ط:مكتبه رشيديه):

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."

حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

16/صفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب