03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر سرکاری تقرری پر پنشن و جی پی فنڈ کا حکم (اور بلا اجازت لمبے عرصے کی چھٹی کے باوجود پنشن و جی پی فنڈ حاصل کرنے کاحکم)
88339جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب کراچی KMC میں سرکاری ملازم تھے، 13سال سرکاری ملازمت کرنے کے بعد ریزائن دیے بغیر والد صاحب دبئی چلے گئے، تقریباً 12 سال دبئی میں گزار کر جب واپس کراچی آئے تو پتہ چلا کہ ان کی پرانی سرکاری ملازمت ابھی بھی چل رہی ہے (یعنی والد صاحب  کی جگہ پر کسی افسر نے دوسرے بندے کو لگا رکھا تھا) تو والد صاحب نے جاکر پھر اپنی پرانی سرکاری ملازمت کو بحال کیا اور اپنی پرانی ڈیوٹی پر دوبارہ تعینات ہوگئے ،یوں مزید 10 سال سروس پوری کرکے ریٹائر ہوگئے، والد صاحب (01-01-2020)کو ملازمت سے ریٹائر ہوے ، والد صاحب نے 5 سال پنشن لی، تقریباً 18 لاکھ روپےGP Fundمیں سے ابھی تک ایک روپیہ بھی نہیں ملا ،اس کے بعد والد صاحب (08-05-2025)کو وفات پاگئے  ۔

 اب پوچھنا یہ ہے کہ جو درمیان میں دوسرے بندے نے 12 سال ڈیوٹی والد صاحب کی جگہ پر کی ہے (جوکسی افسر نے لگایا تھا)  وہ GP fond یا پنشن وغیرہ  کے پیسوں کا حقدار ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس نے بھی 12 سال ڈیوٹی کی ہے، اگر وہ حقدار ہے پھر تو صحیح،لیکن اگر حقدار نہیں ہے تو(پینشن کی مد میں حاصل ہونے والی رقم میں سے) ان 12 سال کے پیسے میرے والد کے لیے جائز ہیں یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔

تنقیح :(جس افسر نے سائل کے والد کی جگہ کسی اور شخص کو اپنی طرف سے مقرر کیا تھا، اسے حکومت کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی، اس کی دلیل یہ ہے کہ ان بارہ سالوں کے دوران حکومت کی جانب سے جو تنخواہ جاری ہوتی رہی، وہ بدستور سائل کے والد ہی کے نام پر جاری ہوتی رہی۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چھٹی کے دوران ملازم کی تنخواہ پرکسی افسر کا بلا اجازتِ حکومت کسی متبادل فرد کو سرکاری ملازمت پر مقرر کرنا، پنشن کا استحقاق، جی پی فنڈ کی شرعی حیثیت، اور پھر اس متبادل ملازم کی پنشن و جی پی فنڈ میں شراکت سے متعلق متعدد سوالات   مذکور ہیں ،چنانچہ  ہر مسئلے کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جا تا ہے۔

1۔بطور تمہید دو باتیں واضح ہوں:

۱۔ملازم (اجیر) اجرت کا مستحق وقت کی فراہمی  یا کام  کی ادائیگی کی بنیاد پر بنتاہے۔

۲۔سرکاری ملازتوں میں عموماً  ملازم کو اس بات کا اختیار نہیں ہوتا   کہ وہ اپنی جگہ کسی دوسرے شخص  کو ملازم رکھ لے،اسی طرح عموماً کوئی افسر  اس بات کا مجاز نہیں ہوتا کہ   کسی  شخص   کو اپنی مرضی سے حکومت کی اجازت کے بغیر   سرکاری ملازمت پر مقرر کر دے ۔

لہٰذا جس مدت میں سائل  کے والد  عملاً اپنی سرکاری ملازمت پر حاضر نہ تھے، اس عرصے کی تنخواہ کے وہ شرعاً مستحق نہیں تھے، مزید یہ کہ سائل کے والد کی عدم موجودگی میں اگر کسی افسر نے حکومتی اجازت کے بغیر کسی دوسرے فرد کو اُن کی جگہ ملازمت پر رکھ لیا،تو ایسا شخص حکومت کا ملازم شمار نہیں ہوگا، بلکہ وہ صرف اسی افسر کا  ملازم سمجھا جائے گا، اس کی اجرت کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی اسی افسر پر عائد ہوگی۔

2۔اس کے بعد یہ بھی   واضح رہے کہ پنشن اور جی بی فنڈ کی   شرعی حیثیت   جداگانہ ہے:

پنشن حکومت کی جانب سے عطیہ ہوتی  ہے، ہماری معلومات کے مطابق   مختلف سرکاری اداروں نے  اس عطیہ کی فراہمی کے لئے      ملازمت کی مدت کے لحاظ سے مختلف  معیارات اور شرائط و ضوابط   لاگو  کئے ہوتے  ہیں،  سائل مذکورہ ادارے  (KMC)کی انتظامیہ   سے رابطہ کر  کے  صورتحال سے آگاہ کرے ،  اگر قانون کے مطابق    سائل کے والد پنشن کے حقدار  تھے ، تو یہ  ساری پنشن لینا  شرعاً بھی درست  تھا ،بصورت ِ دیگر اگر آپ کے والد پنشن کے حوالے سے    (KMC) کے  معیار پر پورا نہیں اترتے، تو یہ پنشن لینا درست نہیں تھا۔

3۔جی پی فنڈ کی نوعیت :

جی پی فنڈ کی بنیاد اس بات  پر ہوتی ہے کہ حکومت ملازم کی تنخواہ سے باقاعدہ ایک مخصوص رقم ماہانہ طور پر کاٹتی ہے اور پھر اس کٹوتی کے ساتھ کچھ اضافی رقم  بھی ملازم کو ادا کی جاتی ہے۔

چونکہ جی پی فنڈ مکمل مدت ملازمت کی بنیاد پر   دیا جاتا ہے اور  اس فنڈ میں ایک حصہ  ملازم کی  تنخواہ کی کٹوتی کا  بھی ہوتا ہے، اس لیے وہ مدت جس میں ملازم نے کوئی عملی خدمات سرانجام نہیں دیں،  نہ تو اس مدت کی تنخواہ لینا درست ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر جی پی فنڈ کا مطالبہ شرعاً درست ہوگا۔

یعنی جی پی فنڈ پینتیس سال کے عرصے کا ہے،جس میں آپ کے  والد نے (23) سال ملازمت کی ،لہذا   اس فنڈ کا ملازمت کے عرصے کے حساب سے تناسب نکالا جائے گا،ملازمت کے دورانیے کے بقدر جی پی فنڈ لینا درست ہے ، باقی رقم حکومت کو واپس کرنا لازم ہو گی۔

اٹھارہ (18) لاکھ روپے کے کل جی پی فنڈ میں سے، ملازمت کے 23 سالہ دورانیے کے تناسب سے تقریباً (11,82,857) روپے کا حصہ لینا شرعاً جائز ہے، جبکہ باقی رقم یعنی (6,17,143) روپے لینا جائز نہیں ہوگا۔

4۔جہاں تک   جی پی فنڈ کی   اضافی   رقم حکومت کو واپس کرنے کی بات ہے تو   اس حوالے سے واضح رہے کہ   اگر یہ رقم کسی طریقے سے حکومت کو واپس کرنا ممکن ہو تو حکومت کو ہی یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے،اگر حکومت کو واپس کرنا   ممکن نہ ہو، تو اس رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کیا جائے گا۔

5۔وہ ملازم جو سائل کے والد کی عدم موجودگی میں کام کرتارہا ،وہ حکومت کا ملازم نہیں ،نہ ہی  حکومت  نے اس کی تنخواہ سے کوئی رقم کاٹی ،لہذا وہ پنشن یا جی پی فنڈ میں رقم کاحقدار نہیں۔

حوالہ جات

جی پی فنڈ کے حوالے سےتفصیلی فتوی المفتی آنلائن  ( ویب سائٹ)  پر درج ذیل عنوان کے تحت دیکھا جا سکتا ہے:

(تبویب :74319 جبری جی پی فنڈپرسود کے نام سے ملنے والے اختیاری اضافہ لینے کاحکم  )

https://almuftionline.com/2021/10/07/5267/ 

رد المحتار ط الحلبي (6/ 18):

(‌وإذا ‌شرط ‌عمله ‌بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره...

(قوله لا يستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي...

ليس المراد "بعدم الاستعمال" حرمة الدفع مع صحة الإجارة واستحقاق المسمى أو مع فسادها واستحقاق أجر المثل وأنه ليس للثاني على رب المتاع شيء لعدم العقد بينهما أصلا .

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 396):

‌تنعقد ‌الهبة ‌بالإيجاب ‌والقبول ‌وتتم ‌بالقبض.

إن ركن الهبة الإيجاب والقبول؛ لأن الهبة عقد (وقيام العقد يكون بالإيجاب والقبول) ؛ لأن ملك الإنسان لا ينتقل للغير ما لم يملك من طرفه للغير ويوجب المالك ذلك كما أن إيجاب الهبة هو إلزام الملك للغير ولا إلزام بدون قبول (الكفاية والقهستاني) .

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 300):

(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني ‌لا ‌يملك ‌الأجرة ‌إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.

https://www.finance.gos.pk/RulesRegulations/Pensio

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

12/صفر/1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب