03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجدید ایمان کا طریقہ نیزکلمات کفریہ سے توبہ کرنے کے لیے دوبارہ ان کلمات کودہرانا
88367ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

تجدید ایمان کا طریقہ کیا ہے؟ کسی سے ایک کفر کا جملہ صادر ہوجائے اور یاد بھی ہو توکیا توبہ میں اس جملہ کو دہرانا لازمی ہوتا ہے ؟ورنہ تجدید ایمان نہیں ہوتا۔ مفتی صاحب! کسی سے کوئی ایک کفر کا جملہ صادر ہو جائے اور وہ یاد بھی ہو اور توبہ میں اس جملہ کو دوہرائے بغیر ان الفاظ سے توبہ کرلی کہ" یا اللہ جو کفر صادر ہوا اس سے توبہ کرتا ہوں اور کلمہ طیبہ پڑھ لیا اور نکاح کرلیا، کیا اس طرح توبہ کرنا درست ہے؟پوچھنا تھا کہ سوال میں جن الفاظ سے توبہ کی ہے وه کافی ہے؟مفتی صاحب اگر کسی چیز کا انکار کیا ہو تو اس چیز کا اقرار کرے تو توبہ میں اس جملہ کو دوہرانا لازمی ہے یا نہیں؟بس دہرائے بغیر توبہ کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ  کلمۂ شہادت زبان سے ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کتابوں، فرشتوں، رسولوں، آخرت کے دن، اچھی بری تقدیر اور روزِ قیامت جیسے بنیادی عقائد پر ایمان کا اعتراف کرلے۔اگر کسی چیز سے انکار کی بنا پر ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو اس کا اقرار بھی کر ے،مثلاً :توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگیا تھا تو توحید کا اقرار کرے۔

اسی طرح اگرایمان سے خارج، کسی ضروری دین کی بات کا انکار کرنے سے ہوا ہو، مثلاً شراب کی حرمت کا انکار وغیرہ، تو ایسی صورت میں یہ لازم ہے کہ وہ اس باطل عقیدے سے بھی براءت کا اظہار کرے جس پر وہ پہلے قائم تھا، کیونکہ وہ اس (باطل عقیدے) کے ساتھ کلمہ شہادتین کا بھی اقرار کرتا تھا، لہٰذا ضروری ہے کہ اس باطل عقیدے سے بھی براءت کا اظہارکرے۔

تجدیدِایمان کے لیے کفریہ کلمات کو زبان سے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور آئندہ کے لیے ایسے کلمات کہنے سے مکمل اجتناب کرے،اور جو کچھ ہوا ہے اس پر نادم بھی ہو۔

درج بالا طریقے کے مطابق اگر ایمان کی تجدید کی ہے تو کافی ہے،دوبارہ تجدید ایمان کی ضرورت نہیں،بصورت دیگر درج بالا طریقے کے مطابق تجدید ایمان کرلیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (17/ 49)

وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة ، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام ، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 228)

ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

16.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب