03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساب بینک (SAB Bank) سے تورق کی بنیاد پر تمویلی سہولت حاصل کرنے کا حکم
88366خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا میں سعودی اسلامک بینک سے پرسنل لون لے سکتا ہوں؟جو کہ تورق کی بنیاد پر ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے ساتھ جو دستاویز آپ نے بھیجی ہیں ،ان میں مذکورہ پروڈکٹ کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے،صرف شریعہ کمیٹی کا فتوی ہے کہ"تورق کی بنیاد پر یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے،اس لیے ممانعت نہیں"۔

ہماری معلومات کے مطابق ساب بینک نے پرسنل لون کی مذکورہ سہولت دینے کے لیے یہ صورت اختیار کی ہوئی ہے کہ جب کسی شخص کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے تووہ بینک کے پاس جاتا ہےاور اس سے قرض مانگتا ہے،بینک قرض دار کو نقدی پیسے دینے کی بجائے اپنی کوئی چیز مہنگی کرکے ادھار فروخت کرتاہے،قرض دار وہ چیز خریدنے کے بعدبازار میں کم قیمت پر نقدفروخت کرتا ہےاوران پیسوں سے اپنی ضرورت پوری کرتاہے۔ اس طرح دونوں فریقوں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے، قرض دار کو ضرورت کے لئے پیسے، اور بینک کو نفع مل جاتاہے۔

 اگرصورتحال یہی ہواور مذکورہ ارینجمنٹ میں دو باتوں کا خیال رکھا جائےتو فقہاء کے نزدیک تورق کی یہ صورت جائز ہے۔پہلی بات یہ کہ بینک اپنی مملوکہ چیز ادھار فروخت کرےاور دوسری یہ کہ خریدنے والا وہ چیزایسے شخص کو فروخت کرے، جس کا پہلےبیچنےوالے(بینک)سے کوئی تعلق اس پروڈکٹ کے حوالے سے نہ ہو۔

البتہ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خریدار بینک سے چیز خریدنے کے بعد بینک کو ہی یہ چیز بیچنے کا وکیل بنا دیتاہےاور بینک اس چیز کو مارکیٹ میں فروخت کرکے اس کی قیمت خریدار کو ادا کر دیتاہے،اب یہ وکیل بنانا اگر پہلےسے بطور شرط طے ہو تو یہ معاملہ فاسد ہو جائے گا اور اگر پہلے سے اس کی شرط نہ لگائی جائے تو بھی یہ معاملہ کراہت سے خالی نہیں کیونکہ اس صورت میں اس کی مشابہت سودی معاملہ سے بہت زیادہ ہو جاتی ہے،وہ اس طرح کہ اگرچہ بینک حقیقت میں تو پہلے بطور مالک اور دوسری صورت میں بطور وکیل معاملہ کرتاہے،لیکن ظاہری صورت یہ ہے کہ بینک خریدار کو پہلے کم پیسے دے رہا ہے اور پھر کچھ مدت گزرنے کے بعد اس سے زیادہ وصول کر رہاہے،تو یہ مشابہت چونکہ بہت قوی ہے،لہذا یہ معاملہ کراہت سے خالی نہیں ہو گا،الا یہ کہ کوئی ایسی خاص صورت ہو جس میں خریدار وہ چیز بینک کے ذریعے ہی بیچ سکتاہو،خود نہ بیچ سکتا ہوتو اس صورت میں بینک کو وکیل بنانا درست ہے۔ (مستفاد:54489)

خلاصہ یہ کہ پرسنل لون کی سہولت ساب بینک سے حاصل کرتے ہوئے تورق کی مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو یہ فیسیلٹی لینا جائز ہے۔

حوالہ جات

فتح القدير (16/ 221)

ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى ، وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه ، وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة ، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب ، فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه أو لعارض يعذر به فلا ، وإنما يعرف ذلك في خصوصيات المواد وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة ؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة .

(مجلة مجمع الفقه الإسلامي ،ص:321و322, المكتبة الشاملة)

"اولاً:ان بيع التورق،هوشراءسلعة فى حوزة البائع و ملكه، بثمن موجل،ثم يبيعها المشترى بنقدلغيرالبائع للحصول على النقد(الورق) ثانيا: أن بيع التورق هذا جائزشرعا، وبه قال جمهورالعلماء،لان الاصل فى البيوع الاباحة، لقول الله تعالى: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا: ولم يظهر فى هذا البيع ربا، لا قصداً ولا صورة، ولأن الحاجةداعيةالى ذلك..... ثالثاً: جواز هذا البيع مشروط بأن لا يبيع المشترى السلعة بثمن أقل مما اشتراهابه على بائعها الأول،لا مباشرة ولابالواسطة، فان فعل فقد وقعا فى بيع العينة المحرم شرعا، لاشتماله على حلية الربا،فصار عقدا محرماً."

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

16.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب