| 88379 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
میرے شوہر نے ایک گاڑی قسطوں پر لی تھی جسے صرف چار مہینے ہوئے تھے کہ میرے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اُس وقت تک گاڑی کی چند قسطیں ادا ہو چکی تھیں اور بقایا قسطیں ابھی باقی تھیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد نہ سسرال والوں نے اور نہ ہی میرے اپنے خاندان والوں نے مجھے یا میرے بچوں کو کوئی مالی مدد دی، بلکہ سب نے اپنے اپنے گھروں میں رہنا جاری رکھا اور ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
میں نے وہ گاڑی ایک کمپنی میں لگا دی جہاں سے ملنے والی رقم سے میں قسطیں اور منٹننس بھی ساتھ ادا کرتی رہی،اورگھر کا خرچ اپنی سیلری سے چلاتی رہی۔ قسطوں کی ادائیگی مکمل ہونے کے بعد اب میں یہ گاڑی بیچنا چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ گاڑی بیچنے سے حاصل ہونے والی رقم میں سوتیلی بیٹیوں کا بھی شرعی حصہ ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ باقی قسطیں میں نے خود گاڑی کو کمپنی میں لگاکر اس حاصل ہونے والے کرایہ سے ادا کی ہیں، شوہر نے تو پورے پیسے کیش دے کر یہ گاڑی نہیں لی تھی۔میرا گھر کرایہ کا ہے جس میں میں اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں، اور کوئی رشتہ دار نہ ہمارا حال پوچھتا ہے اور نہ ہی کسی نے کوئی تعاون کیا۔ میں سوتیلی بیٹیوں کا حق کھانا نہیں چاہتی، اس لیے شرعی طور پر رہنمائی فرما دیں کہ کیا اس گاڑی میں بھی ان کا حصہ ہوگا یا نہیں؟
نوٹ : سائلہ نے فون پر بتایا کہ میں خود جاب کرتی تھی اور سیلری سے اپنے بچوں کی کفالت کرتی تھی ، گاڑی کا کرایہ قسطوں میں دیتی اور مکمل طور پر اس طرح سے گاڑی کی قسطیں ادا کیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وفات کے بعد تقسیمِ ترکہ سے پہلے کسی وارث کا متروکہ مال میں ذاتی طور پر تصرف کرنا شرعاً درست نہیں۔ اگر کوئی وارث مرحوم کے متروکہ مال کو تقسیم سے پہلے کاروبار میں لگاتا ہے اور اس سے نفع حاصل ہوتا ہے، تو اصل مال اور اس کا حاصل شدہ نفع دونوں میت کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوں گے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق جب آپ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد ان کی قسطوں پر لی ہوئی گاڑی کو کسی کمپنی میں کرایہ پر چلایا اور اس سے حاصل ہونے والے منافع سے قسطوں کی ادائیگی کی، حتیٰ کہ گاڑی کی قیمت مکمل طور پر ادا ہو گئی، اور جیسا کہ آپ نے خود وضاحت کی کہ یہ قسطیں گاڑی کے منافع سے ہی ادا کی گئی تھیں تو اب یہ گاڑی مالِ ترکہ شمار ہوگی۔ اس لیے یہ صرف آپ کا حق نہیں بلکہ تمام ورثاء اس میں اپنے اپنے شرعی حصے کے مطابق شریک ہوں گے، اور آپ نے گاڑی کو جو کمپنی میں لگا یا آپ کا یہ عمل تبرع اور احسان شمار ہوگا اور حسن نیت کا ثواب ملے گا ۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (8/ 53)::
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم ، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة ؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما ، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة ؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88)".
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
17/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


