03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنا سامان اٹھا کے لے جاؤ میں تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں چھوڑتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم
88362طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

لڑکے نے ایک بار براہ راست اور تین با رواٹس ایپ پر لکھ کر طلاق دی ہے تو اس میں طلاق ہو گئی ہے؟میں نے اپنے علاقے کے مفتی صاحب سے یہ معاملہ پوچھا تو انہوں نے کہا تھا، طلاق ہوگئی ہے اور اس حساب سے میں نے عدت بھی پوری کر لی ہے، باقی میں اسکرین شارٹ بھی درخواست کے ساتھ بھیج رہی ہوں ۔برائے مہربانی میرے لئے آسانی کا راستہ نکال دیں، کیوں کہ لڑکے کے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ وہ طلاق نامہ پر دستخط تب ہی کریں گے، جب ہمیں مفتی صاحب سے تحریری طور پر فتوی موصول ہوگا۔ گزارش یہی ہے کہ مجھے پریشانی اور اذیت سے نکال دیں تا کہ میں اس مسئلے سے سکون میں آ جاؤں۔

تنقیح:

میسیج کے الفاظ درج ذیل ہیں؛

اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ کل آکر،مجھے نہیں رہنا ہے تمہارے ساتھ((02:06 am

میں کسی سے بات نہیں کر رہا اب لیکن مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے (02:07 am)

میں تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں چھوڑتا ہوں(02:07 am)

میں تمہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں چھوڑتا ہوں(02:42 am)

  • سوال میں مذکور ایک براہ راست طلاق کی وضاحت؟

مذکورہ میسیجز کے علاوہ ایک طلاق پہلے زبانی دی تھی(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) اور پھر ایک یا دو دنوں میں یہ سارے میسجز بھی بھیجے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)سوال میں مذکور تفصیلات کے مطابق لڑکے نے پہلے ایک طلاق زبانی دی تھی،جس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ دوران عدت لڑکا رجوع کرنا چاہے تو بغیر نکاح کے بھی رجوع کرسکتا ہے،البتہ اگر دوران عدت رجوع نہ کیا ہو تو نکاح ختم ہوجاتا ہے۔

(2)"اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ کل آکر،مجھے نہیں رہنا ہے تمہارے ساتھ"،یہ کنایہ کے وہ الفاظ ہیں جن سے طلاق واقع ہونے کے لیے ہر حال میں نیت ضروری ہوتی ہے؛ لہٰذا اگر یہ الفاظ مستقل نئی طلاق کی نیت سے نہ کہے جائیں تو ان سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن کیا اس سے پہلے والی رجعی طلاق، بائن بنے گی یا نہیں؟ تو اس میں عقلا دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ شوہر نے یہ الفاظ اس طلاقِ رجعی کی وضاحت کرتے ہوئے نکاح ختم کرنے کی نیت سے کہے ہوں، کہ چونکہ پہلے دی گئی طلاق سے نکاح ختم ہوچکا ہے؛ اس لیے اپنا سامان اٹھاکر لے جاؤ کل آکر، اس صورت میں ان الفاظ سے وہ رجعی طلاق، بائن بن جائے گی۔ جبکہ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ پہلے دی گئی رجعی طلاق کی وضاحت کرتے ہوئے نکاح ختم کرنے کی نیت سے نہ کہے ہوں بلکہ ویسے ہی محاورتاً بغیرکسی نیت کے کہے ہوں، اس صورت میں وہ رجعی طلاق، بائن نہیں بنے گی۔ عقلی طور پر ان الفاظ میں یہ دونوں احتمال ہیں، لیکن یہاں دوسرا احتمال بعید معلوم ہوتا ہے، کیونکہ سامان اٹھانے اور نکل جانے میں عرف اور محاورے کے پیشِ نظر پہلا احتمال راجح ہے؛ اس لیے ان الفاظ سے مستقل نئی طلاق کی نیت نہ ہونے کی صورت میں سابقہ طلاق کو بائن مانا جائے گا۔(باستفادۃٍ من امداد المفتین: ص 521 تا 523، کفایت المفتی:6/390، و فتاوی دار العلوم دیوبند:9/171)۔ (ماخوذ از فتوی :78067)

یاد رہے مذکورہ جملے(اپنا سامان اٹھا کر لے جاؤ کل آکر،مجھے نہیں رہنا ہے تمہارے ساتھ) میں لفظ "کل"سے  یہ اشتباہ نہ ہو کہ طلاق  کی نسبت آئندہ کل کی طرف کی گئی ہے،لہٰذا  اس سے طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے۔

یہ اشتباہ اس لیے نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ قرینے سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ لفظ "کل" فقط سامان اٹھانے کے وقت کی تعیین کے لیے ہے ،طلاق کو آئندہ کل پر موقوف کرنے کے لیے نہیں ہے۔قرینہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ والا جملہ "مجھے نہیں رہنا ہے تمہارے ساتھ" ،اس کا مطلب یہی ہے کہ طلاق دے چکا ہوں ،اس لیے بس اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے، نہ کہ آئندہ کل سے ساتھ نہیں رہنا ہے۔

(3)"میں کسی سے بات نہیں کر رہا اب لیکن مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے"،یہ  الفاظ پہلے جملے کی تاکید اور وضاحت ہے،لہٰذا اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

(4)البتہ تیسرا جملہ کہ "میں تمہیں اپنے پورے ہوش وحواس میں چھوڑتا ہوں" بھی میسیج پر اسی وقت موصول ہوا ہے،یہ الفاظ طلاق کے باب میں صریح شمار ہوتے ہیں،لہٰذا اس تیسرے جملے سے ایک طلاق واقع ہوگی۔لیکن کون سی ہوگی،صریح یا بائن؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ نمبر ایک میں ذکر کردہ صورت کے مطابق پہلی طلاق بائن واقع ہوئی ہے تو  مذکورہ الفاظ سے واقع ہونے والی دوسری طلاق بھی بائن واقع ہوگی، اس لیے کہ یہ الفاظ طلاق کے باب میں طلاقِ صریح  کے الفاظ ہیں ،جس سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے لیکن چونکہ پہلی طلاق بائن ہے، جس کی وجہ سے یہ  دوسری طلاق بھی اس کےساتھ  لاحق ہوکر بائن ہوگئی ،کیونکہ اصلا ً یہ صریح ہے اورصریح بائن کو لاحق ہوتی ہے،لہذایہ پہلی بائن کے ساتھ لاحق ہوگئی اورمجموعی طورپر دو بائن ہوگئیں ۔

(5)تقریباً 35 منٹ بعد دوبارہ ایک میسج لڑکے کی جانب سے  موصول ہوا ،جس میں لکھا ہوا تھا کہ "میں تمہیں اپنے پورے ہوش وحواس میں چھوڑتا ہوں"، ان الفاظ سے بھی ایک طلاق واقع ہوگئی۔

(6) گذشتہ تفصیل کے مطابق چونکہ پہلے سے دو بائن طلاقیں واقع ہوچکی تھیں تو یہ تیسری طلاق بھی بائن شمار ہوگی اور یوں کل تین طلاقیں واقع ہوچکیں اور عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی۔

حوالہ جات

البحر الرائق (۳؍۳۰۳)

ان من الکنایات ثلاثۃ عشر لا یعتبر فیھا دلالۃ الحال ولا تقع الا بالنیۃ اخرجی اذھبی لا نکاح لی علیک.

وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: (۳؍۳۴۲)

ما یصلح ردا منھا اخرجی وحکم ھذا القسم ان الطلاق لا یقع الا بالنیۃ .

اللباب في شرح الكتاب - (ج 1 / ص 269)

والكنايات ثلاثة أقسام: قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح رداً ولا شتما، وهي ثلاثة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح رداً، وهي خمسة ألفاظ: خلية، برية، بتة، بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا ورداً ولا يصلح سباً وشتما؛ وهي خمسة أيضا: اخرجي، اذهبي، اغربي، قومي، تقنعي، ومرادفها، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية، والقول قوله في عدم النية، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع بكل لفظ لا يصلح للرد وهو القسم الأول والثاني، وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث، ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل للجواب فقط وهو القسم الأول. كما في الإيضاح.

خلاصة الفتاوی (2/86(:

وفي الفتاوی: لو قال لامرأته "أنت طالق"، ثم قال للناس "زن بر من حرام است" وعنی به الأول أو لا نیة له فقد جعل الرجعي بائنا، وإن عنی به الابتداء فهي طالق آخر بائن.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 308)

(لا) يلحق البائن (البائن) (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 371)

إذا أبانها، ثم قال في العدة أنت طالق ثلاثا تقع الثلاث؛ لأن الحرمة الغليظة إذا ثبتت بمجرد النية بلا ذكر الثلاث لعدم ثبوتها في المحل فلأن تثبت إذا صرح بالثلاث أولى ويدل عليه أيضا أن الصريح يلحق البائن؛ لأن قوله أنت طالق ثلاثا صريح بلا ريب.

الفتاوى الهندية (8/ 349)

الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح بأن قال أنت طالق وقعت طلقة ثم قال أنت طالق تقع أخرى ويلحق البائن أيضا بأن قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها أنت طالق وقعت عندنا والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بأن قال لها أنت طالق ثم قال لها أنت بائن تقع طلقة أخرى.

رد المحتار (3/ 299(

إن "سرحتك" كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.

الفتاوى الهندية (1/ 379(

ولو قال الرجل لامرأته ترا جنك باز داشتم أو بهشتم أو يله كردم ترا أو باي كشاده كردم ترا فهذا كله تفسير قوله طلقتك عرفا حتى يكون رجعيا ويقع بدون النية كذا في الخلاصة.  وكان الشيخ الإمام ظهير الدين المرغيناني رحمه الله تعالى يفتي في قوله بهشتم بالوقوع بلا نية ويكون الواقع رجعيا ويفتي فيما سواها باشتراط النية ويكون الواقع بائنا كذا في الذخيرة.

الفتاوى الهندية (1/ 387)

ولو قال لامرأته: " دور باش از من " يقع إذا نوى ولو قال " بيزارم اززن وخواسته آن " إن نوى طلاقا يكون طلاقا وإلا فلا هكذا في التتارخانية والله أعلم بالصواب.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

16.صفر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب