03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موروثہ زمین میں بہن کے حق کی پیسوں سے ادائیگی
88377میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرے شوہر کا انتقال چھ سال پہلے ہو چکا ہے۔ مجھ سے شادی کرنے سے پہلے وہ شادی شدہ تھے، اور اس بیوی سے دو بیٹیاں ہیں جن کی شادی شوہر نے اپنی زندگی میں کر دی تھی۔ مجھ سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔میرے شوہر کو اپنے والد کی میراث میں سے تین ایکڑ زمین ملی تھی، اور تین ایکڑ زمین میرے شوہر کے بھائی کو ملی۔ ان دونوں کی  ایک بہن بھی ہے جس کو والد کی میراث میں حصہ نہیں دیا گیا۔ وہ خود کہتی تھی کہ میں نے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کو دے دیا ہے۔میری ساس ہر بات پر مجھے جتاتی ہیں کہ تم لوگ میری بیٹی کا حق کھا رہے ہو، جبکہ میں انہیں کہتی ہوں کہ آپ اپنا حق لے لیں۔ فی الحال میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ساری زمین اور قبضہ میرے شوہر کے بڑے بھائی کے پاس ہے۔ میں انہیں کئی بار کہہ چکی ہوں کہ اپنی بہن کا حق دے دو، مگر وہ نہیں دیتے۔

میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی نند کو حصہ دینا چاہتی ہوں۔ اگر زمین کی قیمت لگوا کر، اس کے برابر رقم انہیں دے دوں، تو کیا میں اس طرح کر سکتی ہوں؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میراث کے حولے سے شرعی ضابطہ ہے کہ اگر کوئی وارث اپنا حصۂ میراث دیگر ورثاء کو معاف کردے تو ایسا کرنے سے اس کا حق ساقط نہیں ہوجاتا بلکہ بدستور اس کا حق باقی رہتا ہے، البتہ اگر کوئی وارث اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی وارث کو دے دے تو جس کو دیا ہے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی وارث اپنی مرضی و خوشی سے اپنے حصۂ میراث میں سے کچھ  حصہ وصول کرکے باقی سے دستبردار ہوجائے تب بھی اس کا حصہ ساقط ہوجاتا ہے۔

البتہ زمینوں کی تقسیم میں اصل یہ ہے کہ ورثاء  کے حصص کے تناسب سے زمین  تقسیم کی جائےگی  لیکن اگر زمین کی تقسیم مشکل ہو تو اس کو بیچ کر قیمت ورثاء کے درمیان تقسیم کی جائے گی، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر آپ کی نند اپنی رضامندی سے زمین کے عوض اس کی قیمت لینے پر راضی ہے کہ زمین کے بجائے اس کی  قیمت وصول کرے تو ایسا کرنا آپ دونوں کےلیے جائز ہوگا ۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/ 155):

فلذلك يقسم المال المشترك بنسبة حصص الشركاء بالكيل إن كان من المكيلات أي بالكيلة والصاع , وبالوزن أي بالميزان إن كان من الموزونات , وبالعدد إن كان من العدديات , وبالذراع إن كان من الذرعيات سواء كان من القيميات كما هو في المادة الآتية أو كان من المثليات مادة۔

’’الأشباه والنظائر - ابن نجيم: الفن الثالث، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله،ص:272(:

"لو قال الوارث: ‌تركت ‌حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك."

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

17/صفر المظفر /7144ھ      

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب