| 88385 | پاکی کے مسائل | تیمم کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں مریض تھا اور آپریشن کے بعد ہاتھ میں کینولا اور ڈرِپ لگی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے وضو نہیں کر سکتا تھا۔ ہاتھ میں کینولا تھا، نیز دیوار دُور بھی تھی، جس وجہ سے میں خود تیمم بھی نہیں کر سکتا تھا۔ تو میں نے اپنے تیماردار سے کہا کہ وہ مجھے تیمم کرائے، تو اس نے دیوار پرتین مرتبہ اپنے ہاتھ مار کر مجھے اپنے ہاتھوں سے تیمم کروایا۔ تو کیا میرا تیمم ہو گیا تھا اور نماز صحیح ہو گئی تھی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ نے تیمم کی نیت کر لی تھی اور تیماردار نے تین بار دیوار پر ہاتھ مار کر آپ کو اپنے ہاتھوں سے تیمم کرایا تھا، تو یہ جائز تھا۔ اس تیمم سے پڑھی گئی آپ کی نماز صحیح ہو گئی تھی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ جات
جامع الفصولين (2/ 121)
لو تضرر بتحرك الوضوء لا بماء يجزئه التيمم لتضرره بوضوء وإن لم يتضرر بماء كخائف العطش يجزئه التيمم
لهذا المعنى لأنه تضرر بالماء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 237)
فلو أمر غيره بأن ييممه جاز بشرط أن ينوي الآمر بحر. قال ط: وظاهره أنه يكفي من الغير ضربتان. وهو خلاف ما يأتي عن القهستاني.
الفتاوى الهندية (1/ 26)
مريض ييممه غيره فالنية على المريض دون الميمم. كذا في القنية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 239)
نعم لو يمم غيره يضرب ثلاثا للوجه واليمنى واليسرى قهستاني قال ابن عابدین تحت«التيمم ضربتان» إلا أن يكون المراد إذا مسح يد المريض بكلتا يديه، فحينئذ لا شبهة في أنه يحتاج إلى ضربة ثالثة يمسح بها يده الأخرى.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
18/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


