03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مریض کےلیے پیشاب کی تھیلی کےساتھ نمازپڑھنے کاحکم
88384نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

بعض مریضوں کو آپریشن کے بعد پیشاب کی تھیلی لگائی جاتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اور ایسا شخص مسجد آ سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس مریض کو پیشاب کی تھیلی لگی ہو وہ شرعاً معذور کے حکم میں ہے، اس کے لیے اسی حال میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ تاہم نماز کے دوران اس بیگ کو اپنے جسم سے الگ کر کے زمین پر رکھے یا چارپائی وغیرہ سے لٹکا کر نماز پڑھے، کیونکہ عذر کی وجہ سے اگرچہ نجاست کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن دوسری یہ حکم ہے کہ جس قدر ممکن ہو نجاست کو کم سے کم کیا جائے، نیز تاکہ حملِ نجاست بالاختیار کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے۔ ایسا مریض پیشاب کی تھیلی کے ساتھ مسجد میں داخل نہ ہو، بلکہ گھر پر تنہا نماز ادا کر لے۔

حوالہ جات

الهداية (1/ 671)

المستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضؤون لوقت كل صلاة، فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل.

المبسوط للسرخسي (2/ 139)

المستحاضة والمبطون الذي لا ينقطع استطلاق بطنه ومن به سلس البول أو سقوط الدود أو انفلات الريح فإن طهارة هؤلاء تتقدر بالوقت لأجل العذر.

وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی:

(وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته، أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع، وإلا لا.

 

وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی:

قوله: (وكذا ما) أي شيء متصل به يتحرك بحركته كمنديل طرفه على عنقه، وفي الآخر نجاسة مانعة إن تحرك موضع النجاسة بحركات الصلاة منع، وإلالا، بخلاف ما لم يتصل كبساط طرفه نجس، وموضع الوقوف والجبهةطاهر فلا يمنع مطلقا. (ردالمحتار402/1)

الدر المختار: (307/1، ط: سعید)

(فروع) يجب رد عذره أو تقليله بقدر قدرته ولو بصلاته موميا، وبرده لا يبقى ذا عذر بخلاف الحائض.

وفیہ ایضا:

(و) كره تحريمًا (الوطء فوقه، والبول والتغوط)؛ لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية بفسقه باعتياده (وإدخال نجاسة فيه) وعليه (فلايجوز الاستصباح بدهن نجس فيه) ولا تطيينه بنجس (ولا البول) والفصد (فيه ولو في إناء)  (قوله: وإدخال نجاسة فيه) عبارة الأشباه: وإدخال نجاسة فيه يخاف منها التلويث. اهـ. ومفاده الجواز لو جافة، لكن في الفتاوى الهندية: لايدخل المسجد من على بدنه نجاسة .(ج: 1ص:656،مطلب في أحكام المسجد.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

18/2/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب