| 88399 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
والد محترم کے نام پر ایک گاڑی تھی جو ہم نے ان کی زندگی میں فروخت کر دی تھی۔ اس رقم میں،میں نے اپنے ذاتی پیسے ملا کر ایک نئی گاڑی خریدی، جو میرے نام پر تھی اور اب بھی گھر میں استعمال ہو رہی ہے۔
کیا پرانی گاڑی کی فروخت سے حاصل شده رقم جو نئی گاڑی کی خریداری میں لگی شرعی طورپر وراثت شمار ہوگی؟جبکہ میرے والد نے زندگی میں مجھ سے کبھی اس رقم کا مطالبہ نہیں کیا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشترکہ فیملی میں ایک ساتھ رہتے ہوئے ،مشترکہ استعمال کی چیز میں والد کی جانب سے دی گئی رقم مشترک ہی سمجھی جاتی ہے،خاص کر جب ان کی طرف سے ہدیہ وغیرہ کی صراحت موجود نہیں ہے،اس لیے وہ رقم میراث کا حصہ شمار ہوگی،اور تمام ورثہ میں اپنے اپنے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
فقہ البیوع(1/406):
"ویمکن أن یخرّج علی ذالک ما یقع کثیراًمن أنّ الأب یہب داراً لإبنہ ، وھو ساکن معہ فیہا بمتاعہ.فلو أذن الأب إبنہ بقبض متاعہ ودیعۃً ، وسّجل الدار باسم ابنہ بعد الہبۃ ، وصرّح بأنّ کونہ یسکن الدار بعد ذالک موقوف علی إذن الإبن علی سبیل العاریہ، وقبِل ذالک الإبن ، ینبغی أن یعتبر قبضاً کافیاً لتمام الھبۃ، واللہ سبحانہ اعلم."
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


