| 88418 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام محمد فہد اشفاق ہے میرا نکاح 2004 میں ہوا،میرے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا جو کہ قرآن پاک حفظ کر رہا ہے،ہم میاں بیوی میں لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہوتی ہیں وہ دوسروں کو دیکھ کر فرمائشیں کرتی تھی، ہم اچھی لائف گزار رہے تھے مگر میں دل ہی دل میں بہت پریشان تھا اسے سمجھاتا تو وہ لڑتی،ہم روز گھو متے تھے،میں اچھی نوکری کرتا ہوں مہینہ ڈیرھ لاکھ تک خرچہ کرتا تھا. اپنا ایک فلیٹ لیا 4th فلور پر، اب وہ کہنا شروع ہوگئی کہ زمین کا گھر بناؤ،میں نے کوشش کی ،وہ ہمارا فلیٹ سیل کرنے کے لئے Facebook پر Add ڈالنے لگی ، نامحرم سے بات ہونے لگی، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا تھا ،وہ مجھے لیکر حساس تھی اور میں بھی ، مگر کبھی نہ اس نے اور نہ میں نے کسی دوسرے کا سوچا، مگر میں یہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا کہ اتنے نا محرم لوگ اس سے دن رات بات کریں اور اسکا شکوہ، حسد، اور دوسروں سے موازنہ بھی بڑھتا جا رہا تھا ،3 اگست اتوار کو میں نے صبح ناشتہ بنوایا،وہ بیکار میں لڑنے لگی، میں نے ہر بات مانی گھر کے کام کرنے پر مگر وہ لڑتے رہی میں نے تین بار طلاق دے دی . میں اپنے بچوں کے بنا مر رہا ہوں، وہ لوگ میرے بنا، میں گھر چھوڑ کر چلا گیا مگر مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا اور وہ لوگ بھی میرے بنا نہیں رہ پار ہے. مجھے کوئی رجوع کا شرعی راستہ بتا دیں، اب وہ کہہ رہی ہے کہ مجھے کوئی گھر نہیں چاہیے۔ میں بھی صبح شام ان لوگوں کی یاد میں روتا رہتا ہوں اور وہ بھی، میرے بچے بہت پیار کرتے ہیں، میری یہ راہنمائی فرمائیں کیا شریعت مجھے اجازت دے گی کہ ہم پھرسے ایک ہوکر رہ پائیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تین طلاق دینے پر وہ تینوں واقع ہوجاتی ہیں،چاہے ایک ساتھ ہوں یا الگ الگ ،اوربیوی شوہر پر حرمت ِمغلظہ کے
ساتھ حرام ہوجاتی ہے،میاں بیوی کے درمیان علیحدگی لازم ہے، ایک ساتھ رہنا اور میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا
زنا کے زمرے میں آتا ہے،جو دنیا وآخرت میں وبال کا ذریعہ بنے گا۔
تین طلاق دیے جانے کے بعد عورت کا پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ خاتون پہلے طلاق کی عدت گزارے،پھرکسی دوسرے شخص کے ساتھ دائمی نکاح کر لے ، اس میں خاص وقت کے بعد طلاق دینے کی کوئی شرط نہ ہو،پھرکم ازکم ایک بار میاں بیوی والا تعلق قائم ہوجانے کے بعد کسی وقت اتفاقا وہ طلاق دیدے یا مر جائے تو عدت گزرنے کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے ،اگر طلاق کی شرط لگا کر نکاح کیاجائے تو یہ باعثِ لعنت ہے،مگر اس سے بھی عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی،البتہ زبان سے شرط نہ لگائی جائے اور کوئی شخص میاں بیوی کی ہمدردی اور خیر خواہی کی نیت سے دل میں طلاق کی نیت رکھتا ہو اور پھر نکاح اور ہمبستری کے بعد طلاق دیدے تو اس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ باعثِ اجر ہے۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية (1/ 349):
(وأما البدعي)۔۔۔ (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو
يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.
وفي الهنديه(10/196) :
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .
وفی التبیین(6/486) :
قال رحمه الله ( وكره بشرط التحليل للأول ) أي يكره التزوج بشرط أن يحلها له يريد به بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحلك له أو قالت المرأة ذلك .وأما لو نويا ذلك في قلبهما ولم يشترطاه بالقول فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا بذلك لقصده الإصلاح۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
23/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


