| 88412 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والدمرحوم زبیراحمد کا انتقال تقریبا26سال پہلے ہوگیاتھا،ان کا ایک مکان ہےجوان کا ذاتی تھاوالد کی طرف سے ان کو نہیں ملاتھا، اس مکان کو تقسیم کرنا ہے۔ والد کے انتقال کےوقت یہ ورثہ زندہ تھے،ہماری والدہ جواب بھی حیات ہیں، والد کے 3 بیٹے،جواب بھی حیات ہیں اور بیٹیاں 6 حیات تھیں لیکن والد کے انتقال کے بعد ایک بہن شمع کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کی شادی ہوئی تھی مگر اولاد نہیں تھی اور پھر طلاق ہو گئی تھی اور عدت بھی گزر چکی تھی، اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ جبکہ باقی 5 لڑکیاں اب بھی حیات ہیں۔توپوچھنایہ ہے،ہماری والدہ ممتاز بانو کا کتنا حصہ ہے؟ بہنوں کا جو کہ اب پانچ ہیں کتنا حصہ ہے اور 3 بیٹوں کا کتنا حصہ ہوگا؟ وضاحت سے بتا دیں۔ دادا، دادی کا انتقال والدزبیراحمد کے انتقال سے پہلےہی ہو گیا تھا، البتہ ہماری ایک سوتیلی دادی زندہ ہیں اور اس کی اولاد بھی ہیں تو کیا اس دادی کا حصہ بھی میرے والدزبیراحمدکی میراث میں ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم زبیراحمداوراس کی بیٹی شمعنے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحومین کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومین کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحومین والد اوراس کی بیٹی کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحومین کا وہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادئیگی مرحومین کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(1/3) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کی درج ذیل طریقے پرتقسیم ہوگی۔
مورث اعلی زبیراحمد / کل مال :100
|
تعداد |
مورث اعلی سے رشتہ |
ورثہ |
فیصدی حصہ |
دیگرتفصیل |
|
1 |
بیوی |
ممتازبانو |
13.71528 |
خاونداوربیٹی سے |
|
2 |
بیٹا |
عزیر |
15.68813 |
والد اوربہن سے |
|
3 |
بیٹا |
عمر |
15.68813 |
والد اوربہن سے |
|
4 |
بیٹا |
فیصل |
15.68813 |
والد اوربہن سے |
|
5 |
بیٹی |
فریدہ |
7.844066 |
والد اوربہن سے |
|
6 |
بیٹی |
فھمیدہ |
7.844066 |
والد اوربہن سے |
|
7 |
بیٹی |
زبیدہ |
7.844066 |
والد اوربہن سے |
|
8 |
بیٹی |
فوزیہ |
7.844066 |
والد اوربہن سے |
|
9 |
بیٹی |
بازیہ |
7.844066 |
والد اوربہن سے |
|
100 |
|
ان ورثہ کے علاوہ سوتیلی دادی کاحصہ مرحوم زبیراورمرحومہ شمع کی میراث میں نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته
حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ.... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
23/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


