03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چلغوزوں پروجوبِ عشرکے احکام
88438زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

ہمارے علاقے میں بعض لوگوں کی ملکیت میں چلغوزوں کے بہت سے درخت ہیں۔ چلغوزے تیار ہونے کے بعد یہ لوگ مختلف طریقوں سے انہیں فروخت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1- بعض لوگ چلغوزے تیار ہونے کے بعد، انہیں نکالنے سے پہلے ہی پورا جنگل کسی ایک شخص کو فروخت کر دیتے ہیں۔ پھر پھل نکالنے اور جمع کرنے کا سارا کام خریدار کرتا ہے۔ اس صورت میں عشر مالک پر لازم ہوگا یا خریدار پر؟ یا دونوں پر نصف نصف عشر عائد ہوگا؟

2- بعض لوگ چلغوزے تیار ہونے کے بعد کسی دوسرے کو اجرت پر دیتے ہیں کہ وہ پھل نکالے اور جمع کرے (جو کہ بہت مشکل کام ہے)۔ پھر دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوتی ہے۔ اس صورت میں عشر مالک پر لازم ہوگا یا مستاجر پر؟ یا دونوں پر نصف نصف عشر عائد ہوگا؟

3- ایک صورت یہ بھی ہے کہ چلغوزوں کا مالک پورا جنگل کسی دوسرے کو پھل نکالنے سے پہلے فروخت کر دیتا ہے، پھر وہی خریدار آگے کسی کو فیصدی (پرسنٹیج) کے حساب سے اجرت پر دیتا ہے کہ وہ پھل نکالے، جمع کرے اور نفع کی تعیین آپس میں کرتے ہیں۔ اس صورت میں عشر مالک پر ہوگا یا خریدار پر یا مستاجر پر؟ حکم بہ حوالہ واضح کریں۔

4- بعض اوقات پھل نکالنے اور جمع کرنے کے بعد جنگل میں چلغوزوں کے بہت سے دانے زمین پر بکھرے رہ جاتے ہیں، جنہیں بعض لوگ اکٹھا کرکے اپنے لیے فروخت کر لیتے ہیں۔ کیا ان جمع شدہ چلغوزوں پر بھی عشر لازم ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)چلغوزے تیار ہونے کے بعدفروخت کی صوت میں عشربائع یعنی فروخت کنندہ پرواجب ہوتاہے،لہذامذکورہ

  صورت عشرصرف بائع پر واجب ہے۔

(2) مساقات میں پھل پکنے سے پہلے عقد کا ہونا ضروری ہے، تاکہ پھل پکنےتک کیے جانے والے عمل کرنے پروہ اجرت کا مستحق ہوسکے،جبکہ مذکورہ صورت میں پھل پکنے کے بعد عقد کیا گیا ہے،لہذایہ مساقاتِ فاسدہ ہے جو اجارہ فاسدہ کے حکم میں ہے جس میں مزدور کو مثلی اجرت (یعنی مارکیٹ میں رائج مزدوری) ملتی ہے پیداوارساری مالک کی ہوتی ہے،اورجب پیدارساری مالک کی ہوئی تو عشربھی مالک ہی پرہوگا، نہ کہ مزدور پر، اسےتو صرف مثلی اجرت ملے گی۔

(3)چلغوزےتیار ہونے کے بعد مالک نے فروخت کیاہوتوپوراعشراسی پہلے مالک پر ہوگا،اوراگرتیارہونے سےپہلےفروخت کیاہوتوپوراعشردوسرے مالک یعنی خریدار پر ہوگا،مزورپر نہیں ہوگا،اس کوتوصرف اجرت ِمثلی (یعنی مارکیٹ میں رائج مزدوری) ملے گی،کیونکہ اس کے اورخریدار کے درمیان جو عقد ہواتھاوہ اجارہ فاسدہ کے حکم میں تھا جس میں مثلی اجرت واجب ہوتی ہے۔

(4) پھل درخت سےگرنے کی وجہ سےاصولاً مالک کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتے، لہٰذا یہ مالک ہی کی ملکیت میں شمار ہوں گے اور اسی پر ان کا عشر ہوناچاہیے۔ البتہ شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ اگر مالک نے خود انہیں چھوڑ دیا ہو تو گویا یہ اس کی طرف سے کھانے اور اٹھانے کی اجازت ہے۔ اس لیے ایسے پھلوں کو چننا اور بیچنا جائز ہوگا، لیکن یہ اٹھانے والےکےکسی پیداواری عمل یا اٹھانے کی محنت برداشت کا نتیجہ نہیں، بلکہ مالک کی اجازت سے حاصل ہوا ہے،اوراس کی دلیل یہ ہے کہ اگر قرینہ سے معلوم ہوجائے کہ مالک کی طرف سے گرے ہوئے پھل اٹھانے کی اجازت نہیں ہے تو پھر گواٹھانے کا عمل پایا جائےگا مگرملکیت نہیں آئے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں ملکیت مالک کی اجازت کے نتیجے میں منتقل ہوتی ہے،نہ کہ کسی پیداوری عمل اورمحنت وغیرہ کے نتیجے میں،لہٰذا ان چنے ہوئے پھلوں میں چننے والے پرعشر لازم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وفی المبسوط للسرخسي (3/ 16)

وقال في كتاب الزكاة: إذا وجد الجوز، أو اللوز في جبل ففيه العشر وروي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا شيء فيه؛ لأنه مباح كالصيود والعشر فيما يكون من نماء أرض العشر. وجه ظاهر الرواية أن الموجود نماء كله فلا فرق في وجوب حق الله تعالى بين أن يكون في ملكه، أو في غير ملكه كخمس المعادن.

قال العلامۃ الحصکفی:

ولوباع الزرع ان قبل ادراکہ فالعشر علی المشتری ولو بعدہ فعلی البائع۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۶۰ باب العشر)

الاختيار لتعليل المختار (3/ 80)

لو دفعها، وقد انتهت الثمرة في العظم، ولا تزيد بعمله - لا يجوز؛ لأنه لا أثر لعمله، وهو إنما يستحق به. ومتى فسدت المساقاة فله أجر مثله وقد بيناه.

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 373)

قوله (فإن دفع نخلا فيه ثمرة مساقاة والثمرة تزيد بالعمل جاز، وإن كانت قد انتهت لم يجز) لأن العامل إنما يستحق بالعمل ولا أثر للعمل بعد التناهي والإدراك.

قوله (وإذا فسدت المساقاة فللعامل أجر مثله) ؛ لأنه في معنى الإجارة الفاسدة وصار كالمزارعة إذا فسدت ثم عند أبي يوسف له أجر مثله لا يزاد على ما شرط له وعند محمد له أجر مثله بالغا ما بلغ.

قال العلامۃ الحصکفی:

ولوباع الزرع ان قبل ادراکہ فالعشر علی المشتری ولو بعدہ فعلی البائع۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۶۰ باب العشر)

الھندیة: (290/2، ط: سعید)

إذَا مَرَّ فِي أَيَّامِ الصَّيْفِ بِثِمَارٍ سَاقِطَةٍ تَحْتَ الْأَشْجَارِ فَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى وُجُوهٍ إنْ كَانَ ذَلِكَ فِي الْأَمْصَارِ لَا يَسَعُهُ التَّنَاوُلُ مِنْهَا إلَّا أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ صَاحِبَهَا قَدْ أَبَاحَ ذَلِكَ إمَّا نَصًّا أَوْ دَلَالَةً بِالْعَادَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي الْحَائِطِ وَالثِّمَارِ مِمَّا يَبْقَى كَالْجَوْزِ وَنَحْوِهِ لَا يَسَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهُ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّ صَاحِبَهَا قَدْ أَبَاحَ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ مَا لَمْ يُعْلَمْ النَّهْيُ إمَّا صَرِيحًا أَوْ دَلَالَةً، وَهُوَ الْمُخْتَارُ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ فِي الرَّسَاتِيقِ الَّتِي يُقَالُ بِالْفَارِسِيَّةِ بيرادسته، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ الثِّمَارِ الَّتِي تَبْقَى لَا يَسَعُهُ الْأَخْذُ إذَا عَلِمَ الْإِذْنَ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ الثِّمَارِ الَّتِي لَا تَبْقَى يَسَعُهُ الْأَخْذُ بِلَا خِلَافٍ مَا لَمْ يَعْلَمْ النَّهْيَ، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا كُلُّهُ إذَا كَانَتْ الثِّمَارُ سَاقِطَةً تَحْتَ الْأَشْجَارِ، فَأَمَّا إذَا كَانَتْ عَلَى الْأَشْجَارِ فَالْأَفْضَلُ أَنْ لَا يَأْخُذَهُ فِي مَوْضِعٍ مَا إلَّا بِإِذْنِ الْمَالِكِ إلَّا إذَا كَانَ مَوْضِعًا كَثِيرَ الثِّمَارِ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَشُقُّ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَيَسَعُهُ الْأَكْلُ وَلَا يَسَعُهُ الْحَمْلُ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/2/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب