03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے قبل منگیتر کو طلاقِ دینے کا حکم
88563طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

منگیتر کو قبل از نکاح معلق طلاق دی جائے  تو واقع ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم راہنمائی کیجیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس عورت کو طلاق  دی جارہی ہو وہ طلاق دینے والے مرد کے نکاح میں موجود  ہو ، یا اگر وہ نکاح میں موجود نہ ہو جیسا کہ نکاح سے پہلے منگنی کی صورت میں ہوتا ہے  تو  پھر طلاق واقع ہونے کے لیے ملکیت ِنکاح کی طرف نسبت(مثلا اگر تم میرے نکاح میں آئیں یا تم میری بیوی بنیں تو تمہیں طلاق) یا اس کے سبب  کی طرف نسبت ( مثلا اگر میں نے تم سے شادی کی تو تمھیں طلاق)  کا پایا جانا ضروری ہے۔ ملکیتِ نکاح کی طرف یا اس کے سبب کی طرف نسبت کیے بغیر  غیر منکوحہ اجنبی عورت(جس میں منگیتر بھی شامل ہے) کو طلاق دی (مثلا  کہا کہ  اگر تم گھر میں داخل ہوئیں تو تمھیں طلاق ) تو ایسی طلا ق واقع نہیں ہوگی ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 244(

 ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه " فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 344(

(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)

(قوله أو الإضافة إليه) بأن يكون معلقا بالملك كما مثل، وكقوله: إن صرت زوجة لي أو بسبب الملك كالنكاح: أي التزوج

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 27ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب