| 88423 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
1میری نند کی شادی تھی ،چونکہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ بہن کی رخصتی کے وقت بھائی اس کو سسرال تک چھوڑنے جاتے ہیں ، تو میری بڑی نندنے ان سے کہا کہ آپ بھی جائیں ، انہوں نے کہا کہ میری بیوی کو طلاق ہو اگر میں ڈولی کے ساتھ گیا ۔ بعد میں میں نے ان سے پوچھا کہ اس طرح کیوں کہا تو انہوں نے کہا : اگر بہن کی ساس مرگئی تب بھی نہیں جاوں گا،لیکن گھر والوں کے منانے پر تقریبا دوسال بعد وہ اس بہن کے گھر چلے گئے ۔
-2اور اسی طرح ایک مرتبہ ان کی اپنے بھائی سے لکڑیوں کے معاملے میں لڑائی ہوئی، اس وقت اس نے بھائی سے کہا تھا کہ میں نے تم سے ان لکڑیوں کے پیسے وصول نہ کیے تو میری بیوی کو طلاق ہوگی، اب معلوم نہیں ہے کہ اس نے اپنے بھائی سے پیسے وصول کیے ہیں یا نہیں ۔
نوٹ : سائل سے فون پر اس حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ پیسے وصول کئے ہیں ۔
-3ایک مرتبہ بچی کے لیے شوہر سے کچھ چیزیں منگوائیں، جب وہ لائے تو مجھے پسند نہیں آئیں تو اس وقت غصہ میں اس نے کہا کہ آئندہ تم نے کچھ بھی بچی کے لیے منگویاتو تمھیں طلاق ہوگی، اس کےبعد کبھی میں نے بچی کےلیے کچھ نہیں منگوایا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کرکے دی جائے تو شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر متعدد بار طلاق کو معلق کیا جائے تو شرط پائے جانے کی صورت میں متعدد طلاقیں واقع ہوتى ہیں۔ نیز طلاق کو ایک مرتبہ کسی شرط کے ساتھ معلق کر دینے کے بعد شوہر کو واپس لینے کا اختیاربھی نہیں ہوتا، لہذا وہ طلاق بدستور اس شرط کے ساتھ معلق رہتى ہے اور شوہر کی اجازت دے دینے کے بعد بھی شرط ختم نہیں ہوتى ہے۔
-1صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے کہا کہ اگر میں ڈولی کے ساتھ گیا تو میری بیوی کو طلاق ہو، اس صورت میں طلاق کو ڈولی کے ساتھ جانے پر معلق کیاگیا ،لہٰذا جب وہ ڈولی کے ساتھ نہیں گیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔نیز یہ جو کہا کہ اگر بہن کی ساس مرگئی تب بھی نہیں جاؤں گا توچونکہ یہ قسم اورطلاق کے الفاظ نہیں ہیں،لہذا جب گھر والوں کے منانے پر اس بہن کے گھر چلے گئے تو اس سےبھی کوئی اثر نہیں پڑا ۔
-2اور اسی طرح جب شوہر نے اپنے بھائی سے کہا: اگر میں نے آپ سے لکڑیوں کےپیسے وصول نہ کئے تو میری بيوي کو طلاق ہو ،اس صورت میں بھی طلاق کو پیسے وصول نہ کرنے کے ساتھ معلق کیا گیا ہے ، جب اس نے وہ پیسے وصول کر لئے ہیں تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
-3اسی طرح مذکورہ تفصیل کے مطابق یہ طلاق بھی بچی کےلیے کچھ منگوانے پر معلق ہے، جب تک نہیں منگوائیں گی تو طلاق نہ ہوگی ۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 30):
«وأما حكم هذه اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط، ثم نبين أعيان الشروط التي تعلق بها الطلاق والعتاق على التفصيل، ومعنى كل واحد منهما حتى إذا وجد ذلك المعنى يوجد الشرط فيقع الطلاق والعتاق وإلا فلا،»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 420):
وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
26/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


