| 88425 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
1اور اسی طرح ایک مرتبہ پنجاب کے کسی علاقے میں ایک ہوٹل میں مختلف کاموں کےلئے لوگوں کی ضرورت تھی تو میرا بھائی وہاں جارہاتھا ،میں نے شوہر سے کہا کہ ہم بھی چلے جاتے ہیں وہاں خواتین کےلے بھی کام ہے، شوہر نےغصے میں کہا:"اگر تم جانا چاہتی ہو تو جاؤ، تم آزاد ہوجو دل چاہے کرو ،میری طرف سے جس کے پاس جانا چاہو جا سکتی ہو تمہیں اجازت ہے ۔
-2ایک بار شوہر سے کال پر بات کرنے پر شک ہوا تو بحث ہوئی۔ غصے میں شوہر نے کہا کہ "اگر تم نے کسی مرد سے تعلق نہیں بنایا تو تمہیں طلاق"، مگر فوراً کہا "اللہ نہ کرے تمہارا کسی کے ساتھ تعلق ہو"۔ تقریباً ایک سال بعد ایک شخص سے موبائل پر وائس میسج اور کال کے ذریعے بات چیت شروع ہوئی، جو صرف فون تک محدود رہی۔
-3مذکورہ دوسرے واقعہ کے بعد شوہر نےمجھ سے کچھ رقم ادھار لی اور واپس نہ کی۔ایک موقع پر غصے میں کہا: اگر میں تم سے پیسے لوں تو تمہیں بیس طلاق"اگر تمہیں ایک روپیہ بھی دوں تو تم میری بہن جیسی ہوگی"،بعد میں میری بہن اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ہمارے شہر آئی اور خرچ کے لیے مجھ کو 5,000 روپے دیے۔میں نے شوہر کو بتایا تو اس نے کہا: ابھی ضرورت نہیں، بعد میں لے لوں گا۔اگلے دن شوہر نے فون پر 3,000 روپے مانگے۔ میں نے طلاق کی شرط یاد دلائی اور رقم براہِ راست دینے کے بجائے بہن کو دی، اور بہن نے شوہر کو دے دی۔گھومنے کے دوران میں نے شوہر سے 500 روپے لیے، اور واپسی پر کہا کہ چاول زیادہ بنا دینا، میں گھر سے واپس دے دوں گی۔شوہر نے کہا کہ گھی اور مصالحے کا خرچ بھی پورا کرنا ہوگا۔میں نے بہن کو 1,000 روپے دیے کہ شوہر کو دے دے، جس میں پہلے لیے گئے 500 روپے بھی شامل تھے اور باقی 500 روپے مصالحے وغیرہ کے لیے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے طلاق بائن کے بعد دوران عدت شوہر اگر صریح الفاظ میں طلاق دے تو دوسری طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر معلق کرے تو معلق ہوگی، لیکن کنایہ الفاظ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوتی، اگرچہ دوران عدت کیوں نہ ہو۔
-1لہذا صورت مسؤلہ میں یہ جو الفاظ:"اگر تم جانا چاہتی ہو تو جاؤ، تم آزاد ہوجو دل چاہےکرو، میری طرف سے جس کے پاس جانا چاہوجا سکتی ہو تمہیں اجازت ہے "شوہر نے کہے ہیں،یہ چونکہ کنایہ الفاظ ہیں اور طلاقِ بائن واقع ہونے کے بعد کنائی الفاظ سے دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں یہ الفاظ لغو ہوں گے اور ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
-2اس صورت مسئولہ میں یہ الفاظ جو کہے ہیں کہ "اگر تم نے کسی مرد سے تعلق نہیں بنایا تو تمہیں طلاق"،یہ چونکہ صریح الفاظ ہیں مگر طلاق بائن اور عدت کے بعد کہے گئے ہیں تو ان سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
-3 اس صورت مسئولہ میں کہے گئے الفاظ صریح ہیں مگر طلاق بائن اور عدت کے بعد کہے گئے ہیں ،لہذا ان سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
(فتاوى الهندية :377/1):
قال العلامة الحصكفي رحمه اللہ:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا .(الدر المختار: 306/3)
قال جمع من العماء رحمہ اللہ :الطلاق الصریح یلحق الطلاق الصریح بأن قال: أنتِ طالق وقعت طلقۃ، ثم قال: أنتِ طالق تقع أخریٰ ،ویلحق البائن أیضا بأن قال لہا :أنتِ بائن أوخالعہا علی مال، ثم قال لہا:أنتِ طالق، وقعت عندنا
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 306):
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح ۔۔۔ (لا) يلحق البائن (البائن).
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
26/صفر المظفر /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


