| 88434 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک بھائی نے اپنی بہن سے زبانی کہا تھا کہ میں آپ کو چار لاکھ روپیہ دوں گا، لیکن زندگی میں باقاعدہ دیا نہیں تھا، دوسری طرف اسی بھائی نے بہن کو پچیس لاکھ روپیہ قرض بھی دیا ہوا تھا، جس کا وہ مطالبہ بھی کرتا تھا، اسی دوران اس بھائی کا انتقال ہو گیا، اب وہ بہن کہتی ہے کہ میں پہلے وہ چار لاکھ روپیہ کاٹوں گی، پھر وہ بیس لاکھ روپیہ کاٹوں گی، جو بھائی نے سب بہنوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا، سوال یہ ہے کہ کیا اس بہن کا یہ کہنا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بہن کے ذمہ مکمل پچیس لاکھ روپیہ کی ادائیگی لازم ہے،جواس نے پچیس لاکھ روپیہ اپنے بھائی سے قرض لیا تھا، باقی اس کا یہ کہنا درست نہیں کہ میں پہلے چار لاکھ روپیہ اور پھر بیس لاکھ روپیہ کاٹوں گی اور پھر بقیہ رقم ادا کروں گی، کیونکہ کسی کو رقم دینے کا صرف ارادہ کرنے یا وعدہ کرنے سے دوسرا شخص رقم کا شرعاً حق دار نہیں ہوتا، اس لیے مذکورہ بہن کا یہ رقم کاٹنا ہرگزجائز نہیں، بلکہ مکمل رقم مذکورہ مرحوم بھائی کے ورثاء کے سپرد کرنا لازم ہے۔
یاد رہے کہ قرآن وحدیث میں کسی کا ناحق مال دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه، فقد أوجب الله له النار، وحرم عليه الجنة» فقال له رجل: وإن كان شيئا يسيرا يا رسول الله؟ قال: «وإن قضيبا من أراك»
ترجمہ: جس شخص نے کسی مسلمان کا قسم کے ذریعہ ناجائز حق دبایا، اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ کو واجب کر دیا اور جنت کو اس پر حرام کر دیا، ایک شخص نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا یا رسول اللہ! اگرچہ وہ کوئی چھوٹی سی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔
لہذا مذکورہ صورت میں بہن کا معمولی بہانہ بنا کر بھائی کے ورثہ کو رقم نہ دینا اللہ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے، جس کا خمیازہ آخرت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے، اس لیے اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ بھائی کے قرض کی رقم جلد از جلد اس کے ورثاء کے حوالے کرے۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 110) الناشر: دار الفكر:
(إذ قبض الدين نفسه) أي قبض نفس الدين (لا يتصور) لأنه وصف ثابت في ذمة من عليه (إلا أنه جعل استيفاء العين حقه من وجه) استثناء من قوله لأن الديون تقضى بأمثالها: يعني أن الديون وإن كانت تقضى بأمثالها لا بأعيانها لما ذكرنا آنفا، إلا أن قبض المثل جعل استيفاء لعين حق الدائن من وجه ولهذا يجبر المديون على الأداء، ولو كان تملكا محضا لما أجبر عليه، وكذا إذا ظفر الدائن بجنس حقه حل له الأخذ.
صحيح مسلم (1/ 122) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
عن أبي أمامة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه، فقد أوجب الله له النار، وحرم عليه الجنة» فقال له رجل: وإن كان شيئا يسيرا يا رسول الله؟ قال: «وإن قضيبا من أراك»
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


